لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 179 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 179

179 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ولادت : ۱۸۹۳ء وفات : ۲۔ستمبر ۱۹۶۳ء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی مقدس زندگی کے پاکیزہ واقعات اور طیب سیرت پر خاکسار اپنی تالیف حیات بشیر میں بہت سی باتیں لکھ چکا ہے۔اس جگہ صرف اس کتبہ کی عبارت درج کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں جو آپ کے مزار پر بہشتی مقبرہ ربوہ میں لگایا گیا ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم مزار قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذریت طیبہ کے ایک درخشندہ ستارے قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ولادت ۲۰۔اپریل ۱۸۹۳ء کو حسب بشارات الہیہ ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف الہامات میں آپ کا ذکر آتا ہے۔ایک الہام الہی میں آپ کو قمر الانبیاء کے خطاب سے نوازا گیا اور بچپن میں آپ کے آشوب چشم سے بیمار ہونے پر آپ کی شفایابی کے متعلق برق طفلی بشیر کا مبشر الہام ہوا۔آپ کی تمام زندگی خدمت دین اور خدمت خلق کیلئے وقف رہی۔آپ علوم دینیہ کے بہت بڑے عالم اور جماعت احمدیہ کے لئے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔عمر بھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست راست رہے۔نہایت بلند پایہ اور جاذبیت رکھنے والے مصنف تھے۔آپ نے دین کی حمایت میں ایک قیمتی علمی خزا نہ چھوڑا ہے۔جماعت احمد یہ علمی اور روحانی رنگ میں آپ سے رہنمائی حاصل کر کے اطمینان پاتی تھی۔بہت نیک، متقی اور دعاؤں میں شغف رکھنے والے صاحب الہام وکشوف تھے۔آپ عاشق خدا اور رسول، غرباء سے گہری ہمدردی رکھنے والے منکسر المزاج نہایت صائب الرائے بالغ النظر اور ہر کام میں حد درجہ محتاط تھے۔آپ کا وصال جس کی اطلاع آپ کو کچھ عرصہ پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جا