لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 173
173 حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے آپ کو معتمدین صدر انجمن احمدیہ کا مبر نامزد فر مایا تھا۔مرحوم کا مکان لاہور میں احمدی جماعت کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔احباب جاتے اور گھر کی طرح وہاں فروکش ہوتے۔آپ ہی کے مکان پر نماز جمعہ و جماعت ہوتی ہے۔مرحوم کریم الاخلاق تھے اور دوست دشمن سے محبت سے ملتے تھے۔خاندان کے سب چھوٹے بڑے آپ کی بہت عزت کرتے۔آپ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔آپ کے بھائیوں کو آپ سے بدرجہ غایت محبت تھی۔آپ کے چھوٹے بھائی میاں سراج الدین صاحب جو میاں محمد شریف صاحب بی اے ایل ایل بی اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کے والد ہیں۔۱۷ مئی کی شام کو جب مرحوم میاں چراغ دین کی لاش مدرسہ احمدیہ کے صحن میں پڑی تھی، آنکھوں میں آنسو بھر کر کہہ رہے تھے کہ چند دن کی بات ہے کہ میرے چھوٹے لڑکے نے کہا کہ بابا تو اب بہت کمزور ہو گیا۔اب شاید تھوڑا عرصہ ہی یہاں رہے میں نے اس کو کہا کہ تم دونوں بیٹوں کو میں اس بھائی پر قربان کر دوں کیونکہ تم سے میرا ساتھ ہیں تمہیں سال سے ہے لیکن اس سے ساٹھ سال سے تعلق ہے۔لاکھوں روپیہ کی جائیداد کے معاملے ہوئے مگر کبھی رنجش نہیں ہوئی۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ بھائی بھائیوں میں کیا سلوک تھا اور ایک دوسرے سے کتنی محبت رکھتے تھے۔" ” جب ۱۸ مئی کو بعد ظہر مرحوم کے اعزا وا قارب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح سے رخصت ہونے لگے تو حضور نے ان کو باہمی محبت و یکجہتی اور نیکی میں بڑھنے کی نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد کیا کہ میں نے ان ( میاں چراغ دین ) کو بھی غصہ میں نہ دیکھا اور جب کسی پر غصہ ہوتے تو اس طرح جس طرح ماں اپنے بچہ پر خفا ہوتی ہے مگر خفگی سے بھی محبت ٹپک رہی ہوتی۔آپ نے فرمایا کہ جس طرح مرحوم دینداری اور اخلاص میں بڑھے ہوئے تھے آپ لوگوں کو ان سے بھی بڑھنا چاہئے اور دنیاوی معاملات میں خاندان میں ایک بزرگ ایسا ہونا چاہئے جن کی سب مانیں تا کہ آپس میں اتفاق رہے۔کیونکہ جس خاندان میں اتفاق نہ رہے وہ کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔مرحوم بڑے ہی با اخلاق اور محبت والے بزرگ تھے۔بچوں سے بچوں کی طرح