لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 166
166 تحفۃ الملوک کے نام سے آپ کی معرفت لاہور میں طبع کروایا گیا اور پھر حضور نے آپ ہی کو یہ سعادت بخشی کہ حضور کے ایک ذاتی خط کے ساتھ حیدر آباد دکن لے کر جا کر حضور نظام کی خدمت میں پیش کریں۔چنانچہ آپ نے حضرت اقدس کے اس حکم کی تعمیل کی مگر افسوس کہ نظام صاحب نے مولویوں کی شورش سے ڈر کر اس وقت وفد سے ملاقات نہ کی۔تاہم بعد میں دوسرا وفد حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی قیادت میں گیا تو یہ تبلیغی تحفہ جناب نظام صاحب نے قبول کر لیا۔اس بارہ میں حضرت مفتی صاحب نے جو خط حضرت قریشی صاحب کے نام لکھا وہ درج ذیل ہے : بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم برادرم مکرم حکیم صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته الحمد للہ یہاں کا کام بہت عمدہ ہوا ہے۔حضور نظام نے حضرت خلیفہ ایسیح کے خط اور المسیح تبلیغی کتاب کو قبول فرمایا اور قبولیت اور خوشنودی کا پروانہ آج ہمیں عطا کیا۔اب یہاں امراء کے درمیان کتاب تقسیم کی جائے گی۔اور تبلیغ کی جائے گی۔بخدمت جمیع احباب سلسلہ السلام علیکم۔یہاں کی جماعت احمد یہ جوسب مبائعین حضرت خلیفہ امسیح الثانی میں سے ہیں، احباب لا ہور کو السلام علیکم کہتے ہیں۔آپ نے جو بیج بویا تھا اس کا پودا نکل آیا۔آپ کو مبارک ہو۔والسلام۔خادم محمد صادق عفی عنہ آپ کا اخلاص آپ کے اخلاص کی تعریف کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ۱۹۔جون ۱۹۱۳ء کے الفضل میں آپ کے ایک مضمون ” فضل اور تجارت کو درج اخبار کرنے سے قبل حسب ذیل تعارفی نوٹ دیا تھا: حکیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور ان چندلوگوں میں سے ہیں کہ جن کو حضرت صاحب بے تکلفی سے کام بتلا دیا کرتے تھے۔چنانچہ تک اکثر کام جو لاہور کے متعلق ہوتے تھے ان کی نسبت حضرت صاحب حکیم صاحب کو ہی لکھا کرتے تھے اور اس طرح آپ کو حضرت صاحب کی دعاؤں سے فائدہ اٹھانے کا خاص موقع