لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 163
163 میں میرے لئے کسی قسم کی تاخیر مناسب نہ تھی۔جماعت کے غرباء اور یتامیٰ کی دیکھ بھال حضرت قریشی صاحب جماعت کے غرباء یتامی اور بیوگان کا خیال رکھتے تھے اور ان کی مدد کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔باہر سے جو احمدی تلاش روزگار کے لئے لاہور آیا کرتے تھے۔آپ ان کی ہر ممکن امداد فر مایا کرتے تھے۔ہر نو وارد سے پوچھتے کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ کیا کام جانتے ہیں؟ پھر جو شخص جس قابل ہوتا اسی رنگ میں اس کی امداد فرماتے۔اکثر لوگوں کو کچھ نہ کچھ رقم دے کر فرمایا کرتے تھے کہ پھل یا کوئی اور چیز لے کر بیچو۔چنانچہ آپ سے روپیہ لے کر پندرہ ہیں غریب احمدی باہر ٹوکروں میں فروٹ ڈال کر بیچا کرتے تھے۔اپنے محلہ کے غیر احمدی غرباء کی بھی آپ اسی طرح امداد فرمایا کرتے تھے۔میاں محمد عظیم صاحب جو بعد میں کھدر فروش کے نام سے مشہور ہوئے۔فرماتے ہیں کہ وہ جب پہلی مرتبہ تلاش روزگار کے لئے لاہور میں آئے تو اس زمانہ میں مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ زیر تعمیر تھی اور حضرت قریشی صاحب مسجد کے صحن میں تشریف فرما تھے۔ابھی مسجد کے صحن کا فرش نہیں بنا تھا۔انہیں دیکھتے ہی قریشی صاحب نے دریافت فرمایا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں اور کیا کام کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ گجرات کے رہنے والے ہیں اور آج کل بالکل بیکار ہیں۔تلاش روزگار کے لئے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا۔اچھا۔یہ سامنے جو مینٹیں پڑی ہیں ان کو اسی شکل میں ذرا پیچھے ہٹا کر رکھ دو۔انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔اس پر آپ نے اپنی جیب سے دور و پے نکال کر دیئے اور فرمایا کہ جاؤ کوئی چیز خرید کر بیچو حالانکہ ان ایام میں آٹھ آنہ یومیہ مزدوری ملا کرتی تھی۔وہ روپے لے کر عظیم صاحب نے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر مٹھائی بنانا شروع کر دی۔آپ روزانہ پوچھا کرتے تھے کہ عظیم صاحب! بتائیے آج کس قدر بکری ہوئی اور کتنا منافع ہوا؟ عظیم صاحب بتا دیا کرتے تھے۔ایک روز بکری بہت کم ہوئی۔یعنی صرف دس آنے کے پیسے آئے۔اس پر عظیم صاحب کو بہت افسوس ہوا اور تھک ہار کر مسجد کے باہر بیٹھ گئے۔حضرت قریشی صاحب تشریف لائے تو آتے ہی دریافت فرمایا کہ بتاؤ عظیم صاحب! کیا حال ہے؟ عظیم صاحب نے کہا۔جناب آج تو بکری بہت ہی کم ہوئی ہے۔فرمایا۔