لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 140
140 تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا! آج دنیا میں قرآن کریم کو جاننے اور سمجھنے والے صرف مرزا صاحب ہیں۔ان کی اس بات سے متاثر ہو کر حضرت شیخ صاحب نے اپنے بڑے بھائی شیخ کریم بخش صاحب سے بھی اس گفتگو کا ذکر کیا۔شیخ کریم بخش صاحب نے کہا کہ کل تم اپنے ماسٹر صاحب سے حضرت مرزا صاحب کی کوئی کتاب لے آنا۔چنانچہ حضرت شیخ صاحب کے مطالبہ پر حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور کتاب براہین احمدیہ ہر چہار حصص دے دی۔حضرت شیخ کریم بخش صاحب تو اس کتاب کو پڑھ کر لٹو ہو گئے اور فوراً قادیان جا کر بیعت کر آئے۔ان کی واپسی پر حضرت شیخ صاحبدین صاحب نے بھی بیعت کا خط لکھ دیا۔یہ واقعہ ۹۲ - ۱۸۹۱ء کا ہے۔یہ دونوں بھائی چونکہ گوجرانوالہ کی ایک وسیع برادری کے افراد تھے۔اس لئے ان کی خوب مخالفت ہوئی۔مگر انہوں نے اس کی قطعا پروانہ کی۔تھوڑے دنوں کے بعد دونوں بھائی قادیان گئے اور حضرت شیخ صاحب دین صاحب نے بھی دستی بیعت کر لی۔۱۸۹۴ء میں آپ نے انٹرنس کا امتحان دیا اور پھر اپنے بڑے بھائی شیخ الہ بخش صاحب کے چمڑہ کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے ملتان تشریف لے گئے مگر ا بھی تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ آپ کے والد ماجد شیخ محمد بخش صاحب کا گوجرانوالہ میں انتقال ہو گیا اور آپ واپس گوجرانوالہ آ گئے۔آپ کی شادی بچپن میں ہی آپ کی برادری میں ہوگئی تھی۔ابھی آپ کو بیعت میں داخل ہوئے تھوڑ ا عرصہ ہی گذرا تھا کہ آپ کے غیر احمدی بھائیوں کے پیر حافظ عبدالکریم صاحب اپنے مریدوں سے ملاقات کے لئے گوجرانوالہ آ گئے۔آپ نے حافظ صاحب سے بھری مجلس میں سوال کیا کہ پیر صاحب! مہربانی فرما کر بتائیے کہ عام لوگ تو اس لئے پیروں کی بیعت کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کمزور اور گہنگار سمجھتے ہیں مگر آپ جیسے پیروں کے پاس پیر بنے کی کیا سند ہے؟ کیا انبیاء یا خلفاء کی طرح خدا تعالیٰ نے آپ کو اس منصب پر کھڑا کیا ہے یا اس کا اور کوئی باعث ہے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا پیر صاحب کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوسکتا تھا وہ کھسیانے ہو کر بات کو ٹال گئے۔حضرت شیخ صاحب چونکہ اس زمانہ کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے تھے اس لئے آپ کے بڑے بھائی شیخ مولا بخش نے آپ کو بکر منڈی لاہور میں بطور منشی ملا زم کروا دیا۔۱۹۰۰ء میں آپ نے یہ