لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 132 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 132

132 ہیں۔اسی طرح عیسائی عود صلیب اور پنجہ مریم کے نام سے چڑتے ہیں۔اور بھی بے شمار نام ہیں جن کے نام مذہبی نقطہ نظر کے رو سے ہر مذہب والا اس کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس لئے یہ قانون نیا بنانا پڑے گا کہ یہ یہ دوائیں جو اس نام کی مشہور ہیں ان کا نام بدلنا چاہیئے۔اگر حکومت ایسا کوئی قانون بنائے گی تو ہم بھی اس مرہم کا نام بدل لیں گے۔طب کی کتابوں میں سے نہ یہ نام محو ہو سکتے ہیں اور نہ کوئی دوسرے نام ان کے مقرر ہو سکتے ہیں۔آخری حیص و بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نام تو یہی رہے مگر وجہ تسمیہ اس مرہم کی یہ نہ لکھی جائے کہ حضرت مسیح کے صلیبی زخموں کو چنگا کرنے کے لئے حواریوں نے اس کو بنایا تھا۔حضرت مسیح تو دوسرے بیماروں کو چنگا کرتے تھے اس مرہم نے حضرت عیسی کو چنگا کر دیا۔بہر حال جب یہ فیصلہ ہو چکا تو ہم نے پوسٹروں میں سے اس کی وجہ تسمیہ نکال دی اور اس کی بجائے یہ لکھا کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی کے لئے بنائی تھی اور یہ مرہم سرطان خنازیر بواسیر طاعون اور تمام قسم کے زہر یلے پھوڑوں کے لئے اکسیر ہے۔اس کامیابی پر تمام اخباروں نے ہمیں مبارکباد دی اور اسی مرہم کی وجہ سے ہندوستان انگلستان اور تمام دوسرے ممالک میں میرا نام مرہم عیسی مشہور ہو گیا اور مرہم کی اتنی بکری ہوئی کہ ہزاروں روپے ہم نے اس کی وجہ سے کمائے۔” دواخانہ میں اس دوائی کے ذریعہ دوسری دواؤں کو بھی بہت شہرت حاصل ہو گئی اور ہم نے اپنے دواخانہ کا نام بھی دواخانہ مرہم عیسی رکھا۔اور اسی نام سے تمام ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں یہ دوا خانہ مشہور ہے۔“ حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب اپنے احمدی ہونے کا باعث یہ بیان کیا کرتے تھے کہ آپ سرسید احمد خاں صاحب مرحوم کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔اس کے بعد حضرت صاحب کا تذکرہ سنا اور کچھ اشتہارات بھی دیکھے۔براہین احمد یہ بھی پڑھنے کا موقعہ ملا۔اس سے آپ کے دل میں حضرت کی محبت کا جوش پیدا ہوا۔اور آپ قادیان تشریف لے گئے۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول کی وساطت سے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے ساتھ امرتسر میں جو حضرت اقدس کا مباحثہ ہوا تھا۔اس میں بھی آپ شامل تھے۔اسی طرح عبدالحق غزنوی