لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 126 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 126

126 حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی مسجد میں جو ہمارے مکان کے سامنے تھی۔شام کے وقت جب آپ ( یعنی والد ماجد حکیم صاحب حضرت میاں چراغ دین صاحب۔ناقل ) نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو کشف کے طور پر آپ نے میرے رونے کی آواز سنی۔اس وقت میں تین چار برس کا تھا اور بھائی دروازہ میں میرے ننھیال رہتے تھے۔وہاں میں اپنی والدہ بزرگوار کے ساتھ گیا ہوا تھا۔ان دنوں بابا قائم دین جو میرے نانا تھے ان کی وفات ہوئی تھی۔تمام گھر کے لوگ اور مستورات اور تمام کنبہ وہاں اکٹھا ہوا ہوا تھا۔اور میں نیچے کوئیں کی منڈیر پر کھڑا تھا اور دور رہا تھا۔میرے رونے کی آواز حضرت والد صاحب بزرگوار کو شام کے وقت لنگے منڈی کی مسجد میں جو بھائی دروازہ سے بہت دور تھی۔ان کے کان میں سنائی دی تھی اور ان کو کشف دکھایا گیا تھا کہ میں کوئیں کے اندر ڈول کا رسا پکڑ کر لٹک رہا ہوں اور قریب تھا۔کہ میں کوئیں کے اندر گر جاتا۔حضرت والد بزرگوار میرے رونے کی آواز کان میں پڑنے سے لنگے منڈی سے بھائی دروازے تک دوڑتے ہوئے پہنچے اور انہوں نے مجھے کوئیں میں لٹکا ہوا اور روتے ہوئے دیکھا اور مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا اور پھر مجھے میری والدہ کے پاس لے گئے اور یہ ساری کیفیت بیان کی۔والد بزرگوار نے بہت بہت خدا کا شکر ادا کیا اور صدقہ و خیرات بھی بہت کیا“ ۱۸۸۶ء میں آپ کے والد ماجد نے آپ کو گورنمنٹ سکول لاہور کی مڈل کلاس میں داخل کروایا۔ان کا ارادہ تھا کہ آپ کو انگریزی تعلیم دلا کر کوئی اچھی سی ملازمت دلائیں مگر آپ کا ارادہ طبیب بنے کا تھا۔چنانچہ آپ کے والد ماجد حضرت میاں چراغ دین صاحب نے آپ کے اس رجحان کو دیکھ کر آپ کو عربی اور فارسی پڑھانے کے لئے مولوی فضل دین صاحب کے پاس بٹھایا۔ضروری علمی قابلیت پیدا کرنے کے بعد آپ نے علم طب حاصل کرنے کے لئے اس وقت کے ایک مشہور طبیب حکیم ضیا ءالدین صاحب لاہور کی شاگردی اختیار کی۔حکیم صاحب موصوف کے چھوٹے بھائی حکیم شجاع الدین صاحب بھی آپ سے بہت محبت سے پیش آتے تھے۔اور مریضوں کے علاج کے وقت آپ کو اپنے پاس بٹھا لیا کرتے تھے اور تشخیص الامراض کا طریق بتلاتے رہتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی طبی تعلیم یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ دہلی دروازہ کے باہر مکانات تعمیر کروانے سے پہلے میاں فیملی کے افراد اندرون شہر پانی والا تالاب کے قریب رہا کرتے تھے۔وہاں ہی حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد ہے اور اس مسجد کے پاس ہی اس فیملی کے مکانات تھے جو فروخت کر دیئے گئے۔اب بھی وہ مکانات موجود ہیں۔(عبدالقادر )