لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 122 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 122

122 طب کا کیا کام؟ پھر تو حکم کی تعمیل میں ہی سب خیر تھی۔۱۶۔ایک دفعہ جب کہ حضور گورداسپور میں تھے۔ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے۔گرمی کا موسم تھا اور دو بجے کا وقت۔میں حضور کو پنکھا کر رہا تھا۔حضور ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔اس کرسی کے پیچھے کئی بینچ تھے کچھ لوگ ان پر بیٹھے تھے۔کچھ چاروں طرف کھڑے تھے حلقہ باندھے ہوئے۔حضور کی کرسی کے پاس ہی چندو لال مجسٹریٹ کی میز تھی۔اچھی بڑی میں تھی۔پہلے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے گواہی دی۔پھر حضرت صاحب سے اس نے پوچھا کہ آپ کا الہام ہے۔انی مهین من اراد اهانتک۔اگر میں آپ کی توہین کروں تو ؟ حضور نے فرمایا۔یہ خدا کا کلام ہے خواہ آپ بھی کریں۔۔اس پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر گرے گا وہ بھی چکنا چور اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چور۔کرم دین کا وکیل محمد عمر بٹالہ کا تھا۔عدالت باہر درختوں کے نیچے لگ رہی تھی۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد چندو لال ایک واقعہ کی بناء پر Degrade ہو کر منصف بنا کر ملتان بھیجا گیا۔بعد میں کسی موقعہ پر جب وہ لاہور آیا تو اس نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ مرزا صاحب نے میرے متعلق اور تو کچھ نہیں کہا۔حضور کالباس وغیرہ جب حضور مجلس میں بیٹھا کرتے تھے تو بسا اوقات آپ کا ہاتھ آپ کی ران پر لگتا تھا اور کبھی ایک پاؤں دوسری ران پر رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔حضور عموماً سفید پگڑی پہنا کرتے تھے۔فوٹو کے وقت آپ نے ایک لنگی پہنی ہوئی تھی جس کا پلہ تلے کا تھا۔حضور پگڑی شیشہ کے بغیر ہی باندھ لیا کرتے تھے۔جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا تو اس وقت حضور لنگی باندھے ہوئے تھے۔سرخ بنات کا چغہ بھی پہنے حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے۔یہ یاد نہیں کہ آپ کہاں سے واپس تشریف لا رہے تھے۔لاہور کے اسٹیشن پر غالبا دیکھا تھا۔چونکہ دائیں ہاتھ کو چوٹ لگی ہوئی تھی اس لئے پانی کا گلاس حضور بائیں ہاتھ سے اٹھاتے تھے۔البتہ دایاں ہاتھ پانی پیتے وقت گلاس کو لگا لیا کرتے تھے۔حضور کے دائیں ہاتھ کو چوٹ زمانہ ماموریت