لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 120 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 120

120 امرتسر ناروال دینا نگر وغیرہ مقامات سے آئے ہوئے تھے۔غالباً اس کثرت اثر دھام کو دیکھ کر یا کسی اور مصلحت سے مجسٹریٹ صاحب نے اس روز فیصلہ نہ سنایا بلکہ فیصلہ سنانے کی تاریخ ۸ اکتوبر ۱۹۰۴ء مقرر کر دی۔ان کا ارادہ چونکہ حضرت اقدس کے متعلق خطر ناک تھا اس لئے انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ حضرت اقدس کے مقدمہ کا فیصلہ اس وقت سنایا جائے جب کہ عدالت کا وقت ختم ہورہا ہو اور جرمانہ کی ادائیگی کا فوری طور پر انتظام نہ ہو سکے۔دوسرے انہوں نے مصلحتا فیصلہ سنانے کا دن ہفتہ مقرر کیا۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ مجسٹریٹ کی نیت یہ تھی کہ میں فیصلہ سناتے سناتے کچہری کا وقت گزار دوں گا اور پھر جرمانہ کی رقم پیش کرنے پر کہہ دوں گا کہ اب کچہری کا وقت ختم ہو چکا ہے لہذا جرمانہ پرسوں پیر کو وصول کیا جائے گا اور اس طرح سے (حضرت) مرزا صاحب کو کم از کم دو دن جیل خانہ میں رہنا پڑے گا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ چند دن ہوئے خاکسار پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا۔ان میں سے ایک رجسٹر برآمد ہوا جس میں جماعت احمد یہ حلقہ دہلی دروازہ لاہور کے ۱۹۳۸ء اور ۱۹۳۹ء کے ہفتہ وار تربیتی جلسوں کی روئیداد درج ہے۔اس رجسٹر میں حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل کی ذکرِ حبیب پر کئی تقریریں درج ہیں۔ان تقریروں میں سے ایک تقریر جو انہوں نے ۵۔اپریل ۱۹۳۸ء کو مسجد احمد یہ دہلی دروازہ میں محترم جناب چوہدری عبدالرحیم صاحب صدر حلقہ کی صدارت میں فرمائی۔کرم دین والے مقدمات میں آتما رام مجسٹریٹ کے فیصلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس ( یعنی آتما رام۔ناقل ) نے یہ منصوبہ کیا کہ چار بجے فیصلہ سناؤں گا۔کل اتوار ہے اور پرسوں ویسے چھٹی ہے۔اس طرح حضور تین چار دن تو جیل میں کاٹیں گے۔اس روایت کے اس حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مجسٹریٹ آتما رام نے جو کیم اکتو بر ۱۹۰۴ء کی بجائے آٹھ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ۸۔اکتوبر کے بعد ۹۔کو اتوار اور ۱۰۔اکتوبر کی چھٹی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ نعوذ باللہ من ذالک حضور زیادہ سے زیادہ وقت جیل میں رہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض صحابہ سے میں نے یہ بھی سنا ہوا ہے کہ آتما رام کا پختہ ارادہ تھا کہ حضور کو قید کی سزا کا حکم سنائے مگر چونکہ حضور کی شخصیت بہت اہم تھی اس لئے جب اس نے فیصلہ سنانے