لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 117 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 117

117 سے پانی لے کر بچوں کو نہلاتی ہیں اور کئی قسم کے ہاتھ مٹکوں میں پڑتے ہیں۔اس لئے پانی پلید ہو جاتا ہے۔حضور اٹھے اور ایک مٹکے سے پانی لیکر پیا۔اور پھر فرمایا۔دیکھو یہ ٹھنڈا کیسا ہے؟ لیکچر کے لئے جو دن مقرر تھا شور کی وجہ سے اور مناسب انتظام نہ ہو سکنے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر نے کہلا بھیجا کہ اگر آپ لیکچر کی تاریخ ذرا بڑھا دیں تو ہمیں انتظام میں سہولت رہے گی۔چنانچہ حضور نے کچھ دن آگے بڑھا دیئے۔مجھے یاد ہے۔انتظام کے لئے ڈپٹی کمشنر نے دوسوسوار رسالہ میانمیر سے منگوایا تھا۔لیکچر بھائی دروازہ کے باہر منڈ وہ رائے میلا رام میں ہوا تھا اور مخلوق ہزاروں کی تعداد میں تھی۔لیکچر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا تھا۔لیکچر کے بعد جب حضور نے خود کھڑے ہو کر کچھ تقریر کرنا چاہی تو لوگوں نے شور مچا دیا۔پھر مولوی عبد الکریم صاحب نے کھڑے ہو کر ایک رکوع خوش الحانی کے ساتھ پڑھا جس پر لوگ خاموش ہو گئے۔اس کے بعد حضور نے مختصر سی تقریر فرمائی۔اور بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔کہ اس قدر مخلوق کو پیغام حق پہنچانے کا موقعہ مل گیا۔کمیٹی کے داروغہ نے سڑک پر چھڑکاؤ کروایا تھا۔حضور کے ساتھ فٹن پر خاں رحمت اللہ صاحب کو تو ال سوار تھے۔ڈرائیور کے ساتھ بھی ایک سپاہی بیٹھا ہوا تھا۔سڑک کے دونوں طرف گھوڑ سوار فوجی تھے۔غیر احمدی ٹولے بنا بنا کر کھڑے تھے اور چھاتیاں پیٹتے ہوئے کہتے تھے۔ہائے ہائے مرزا۔ے۔ایک مرتبہ قادیان میں حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے۔حضور نے مہمانوں کے واسطے چائے کے برتن پر چ پیالیاں وغیرہ منگوائیں۔وہ سارا سامان میر مہدی حسین صاحب سے گر کر پرچ ٹوٹ گیا۔حضور نے بھی گرنے کی آواز سنی۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور آواز آئی۔معلوم ہوتا ہے میر مہدی حسین صاحب سے پر چیں ٹوٹ گئی ہیں۔فرمایا دیکھو ! جب گری تھیں تو ان کی آواز کیسی اچھی تھی،، ہے۔۔ایک دفعہ ہمارے والد میاں چراغ دین صاحب۔مرہم عیسی عبدالمجید اور ہماری والدہ اور میں اور میری بیوی قادیان گئے۔کوئی ۱۸۹۸ء۔۱۸۹۹ ء کا واقعہ ہے۔حضرت صاحب نے عورتوں کو کچھ نصائح فرما ئیں۔حضرت صاحب کو نصائح سن کر ہم حضرت خلیفہ اول کے گھر گئے۔آپ نے بھی وہی نصائح کیں جو حضرت صاحب کر چکے تھے۔مفہوم یہ تھا کہ ناشکری نہیں کرنی چاہیئے۔بچوں کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں۔بعض اوقات گالی کا اثر سیچ سچ ہو جاتا ہے۔