لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 99 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 99

99 میاں قادر بخش صاحب کے بڑے فرزند میاں الہی بخش صاحب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد حکومت میں محکمہ عمارات کے وزیر اعلیٰ تھے اور بڑے بارسوخ تھے۔انگریزوں کی آمد پر انہوں نے میاں محمد سلطان صاحب کو لاہور چھاؤنی کا ٹھیکہ لے کر دیا۔اسی طرح جب لاہور سے ملتان تک ریلوے لائن بنی تو اس کا ٹھیکہ بھی انہوں نے میاں محمد سلطان صاحب کو دلایا۔میاں محمد سلطان صاحب ان ٹھیکوں کی وجہ سے بڑے امیر کبیر بن گئے۔مشہور ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن اور ضلع کچہری کی عمارت بھی میاں محمد سلطان صاحب نے ہی بنوائی تھی۔لاہور ریلوے اسٹیشن کی تیاری کے بعد انگریز انجنیئر وں نے کہا کہ یہ عمارت ہمارے منشاء کے مطابق تیار نہیں ہوئی ہے اس پر میاں محمد سلطان صاحب نے کہا کہ میں ایک پیسہ بھی نہیں لیتا اور مفت میں یہ عمارت آپ کی نذر کرتا ہوں۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لاکھ روپیہ کے مقروض ہو گئے اور چونکہ ٹھیکے لینے کی وجہ سے مہاراجہ جموں وکشمیر کے ہاں بھی انہیں بڑا رسوخ حاصل تھا۔اس لئے انہوں نے مہا راجہ صاحب کے پاس اپنے حالات بیان کئے اور اپنی جائیداد ان کے پاس رہن رکھ کر تین چار لاکھ روپیہ حاصل کیا۔مگر خدا کی قدرت ! کہ اس واقعہ کے جلد ہی بعد اس خاندان کے تینوں سرکردہ افراد یعنی میاں الہی بخش صاحب خود میاں محمد سلطان صاحب اور میاں عبدالرحمن صاحب وفات پا گئے۔میاں عبدالرحمن صاحب کا ایک لڑکا میاں سراج دین نام تھا وہ بھی فوت ہو گیا۔اب ورثاء میں سے کوئی شخص اس قابل نہ تھا کہ ان کی جائیداد زر و جواہرات اور روپیہ اور مال مویشی پر قبضہ کر سکتا نتیجہ یہ نکلا کہ خاص خدام نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا اور جائز وارث بے چارے منہ تکتے رہ گئے۔حضرت میاں محمد شریف صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی کا بیان ہے کہ رہن کی معیاد ختم ہونے سے کچھ عرصہ قبل مہا راجہ جموں وکشمیر نے ہمارے بزرگوں کو جموں بلایا اور کہا کہ روپیہ لاؤ اور اپنی جائیداد واپس لے لو۔مگر روپیہ کہاں سے لاتے ؟ قریب تھا کہ بالکل خالی ہاتھ لوٹتے مگر ان دنوں حضرت حاجی محترم ڈاکٹر عبید اللہ صاحب کا بیان ہے کہ میں نے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کی عمارت قریباً تیار ہو چکی تھی کہ ریلوے کے انگریز انجنئیر نے میاں سلطان سے فٹن طلب کی۔مگر میاں صاحب نے جواب دیا کہ آج جمعہ ہے میں نے شاہی مسجد میں جمعہ پڑھنے کیلئے جاتا ہے اس لئے فٹن فارغ نہیں۔اس پر وہ انگریز انجنئیر ناراض ہو گیا اور اس نے عمارت کے زیادہ حصہ کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔