لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 85 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 85

85 رہے گا اور بعد میں آنے والے مخلص لوگ آپ کی ترقی درجات کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے۔آپ کافی عرصہ تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے اور صدرانجمن احمد یہ میں ناظر امور خارجہ کے طور پر بھی قابل قدر کام کیا۔آپ نے کئی عمدہ اور نفیس کتا بیں بھی تصنیف فرما ئیں۔آپ کے ذکر حبیب پر لیکچر اب تک کانوں میں گونج رہے ہیں۔آپ کی تقریر اور تحریر بناوٹ اور تصنع سے پاک اور سادگی سے پُر ہوتی تھی۔انداز بیان ایسا دلکش اور مسحور کن تھا کہ سامعین پر محویت طاری رہتی اور وہ بت بن کر بیٹھے رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص کشش اور جذب عطا فرمایا تھا۔انگریزی اردو دونوں زبانوں پر کافی عبور حاصل تھا۔فارسی اور عربی عبرانی زبانوں سے بھی واقف تھے۔در میانه قد گورا رنگ، لمبی اور خوبصورت گھنی داڑھی، نہایت خوبصورت اور وجیہہ لباس ہمیشہ صاف ستھرا اور قیمتی زیب تن فرمایا کرتے تھے۔طبیعت از حد نفاست پسند کھانا عمدہ اور بہترین تناول فرمایا کرتے تھے۔بات کرتے تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مونہہ سے پھول جھڑ رہے ہیں۔بہت لمبی عمر پائی اور ربوہ دارالہجرت میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ابدی استراحت فرما رہے ہیں۔فانالله وانا اليه راجعون۔آپ کے حالات اگر مفصل لکھے جائیں تو ایک عظیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔جس کو اللہ تعالی توفیق دے گا وہ تفصیل سے لکھے گا۔ہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا استاد ہونے کا بھی فخر حاصل تھا۔آپ کی روایات سلسلہ کے لٹریچر میں محفوظ ہیں۔اس لئے ان کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ انجام آتھم ، میں آپ کا نام ۶۵ نمبر پر ہے۔حضرت مولوی غلام حسین صاحب ولادت: بیعت : ۱۸۹۱ ء وفات : یکم فروری ۱۹۰۸ء حضرت میاں محمد شریف صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی نے بیان فرمایا کہ آپ دبلے پتلے گورے رنگ کے تھے۔سر پر عمامہ باندھتے تھے۔قد درمیانہ تھا۔آپ گھٹی بازار والی مسجد کے امام اور متولی تھے۔جب حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب وفات پا گئے تو ہم حضرت مولوی غلام حسین صاحب کی مسجد میں جا کر نماز جمعہ پڑھا کرتے تھے۔آپ کتابوں کے بڑے شوقین تھے۔