لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 577
577 پھر حضور نے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر ۵۔نومبر ۱۹۵۴ء کو تقریر کرتے ہوئے فرمایا: پس اپنے پروگراموں پر ایسے رنگ میں عمل کرو جیسے اس دفعہ لا ہور کے خدام نے خصوصیت سے اعلیٰ کام کیا ہے۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ دکھاوا ہے۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نمائش ہے۔مگر کبھی کبھی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔اگر تمہارے دلوں کی نیکی اور خوبی کا اقرار دنیا نہیں کرتی تو تم مجبور ہو کہ تم لوگوں کو دکھا کر کام کرو۔۔و, چنانچہ اب جبکہ ہم نے اپنی خدمات ظاہر کرنی شروع کیں تو مسلمانوں کی خدمت کا دعوی کرنے والے اپنے بلوں میں گھس گئے اور کوٹھیوں میں بیٹھے رہے۔چنانچہ بعض لوگوں نے جو جماعت اسلامی کے دفتر کے قریب رہتے تھے اقرار کیا کہ اسلامی جماعت نے تو ہماری خبر بھی نہیں لی۔اور یہ ( خدام ) چار چار میل سے آئے اور ہماری مدد کی، ۱۴۳ پھر فرمایا: اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کی نیم مردہ ہی جماعت میں اس سال وہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ نے زندگی کی روح پھونک دی ہے اور اس کا سہرا زیادہ تر وہاں کے قائد محمد سعید احمد صاحب اور ان کے چار پانچ رفقاء کے سر ہے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔گذشته سیلاب کے ایام میں نہ صرف یہ کہ غیر معمولی طور پر لاہور کی مجلس نے خدمت خلق کا کام کیا بلکہ اسے غیر معمولی طور پر پبلک میں روشناس بھی کرا دیا۔اور اس لحاظ سے اس کا کام واقعی خاص طور پر تعریف کے قابل ہے۔سیلاب کے ایام میں لاہور کی مجلس نے جو کام کیا ہے میں اس کی تعریف کرتا ہوں۔‘، ۱۴۴ تعلیم الاسلام کالج کی ربوہ میں منتقلی تعلیم الاسلام کالج لاہور کو بھی ربوہ منتقل کر دیا گیا۔۱۴۵ پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب کی گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائر منٹ اور کراچی یونیورسٹی میں تقرری پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے پرنسپل گورنمنٹ کالج لا ہورا اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوکر