لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 525
525 اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افترا کرنے والا اس کے عذاب سے بھی بچ نہیں سکتا۔کہ خدا نے مجھے اسی شہر لاہور میں نمبر ۳ اٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعے اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور تو حید دنیا میں قائم ہوگی“۔۸۸ لاہور کی عظمت کی بحالی ۱۱ فروری ۱۹۴۴ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے اس نشان کو لاہور میں ظاہر ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ تازه نشان خدا نے لاہور میں ظاہر کیا ہے۔پس جس طرح مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں پر اسلام کی طرف سے خاص ذمہ داریاں عائد ہوگئی تھیں اسی طرح میں سمجھتا ہوں اس انکشاف کے بعد جو لاہور میں مجھ پر ہوا یہاں کی جماعت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے اس انکشاف کا مجھ پر سفر میں ہونا جہاں اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی سے مشابہت رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہ پیشگوئی سفر کی حالت میں ہوشیار پور میں فرمائی اور مجھ پر بھی اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا انکشاف سفر کی حالت میں ہی ہوا۔وہاں آج خدا تعالیٰ نے مجھے ایک اور بات بھی سمجھائی ہے۔بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور میں فوت ہوئے تھے اور آپ کے لاہور میں فوت ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں لا ہور کے متعلق ایک قسم کا بغض پایا جاتا تھا۔یوں تو ہر شخص نے فوت ہونا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فوت ہو گئے اور رسول کریم علیے بھی فوت ہو گئے لیکن اگر کوئی شخص اپنے گھر پر فوت ہوتا ہے تو اس کے متعلقین کو گوطبعی طور پر رنج ہوتا ہے مگر ان کے دلوں میں کوئی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔لیکن اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کے متعلقین کے دل ساری عمر اس حسرت واندوہ سے پر رہتے ہیں کہ کاش ! وہ سفر کی حالت میں