لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 526 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 526

526 فوت نہ ہوتا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اس کے علاج میں کوتا ہی ہوئی ہو۔شاید اس کی تیمارداری میں کمی رہ گئی ہو۔پس ساری عمر ان کے دلوں سے ایک آہ اٹھتی رہتی ہے اور انہیں یہ تصور کر کے بھی تکلیف ہوتی ہے کہ ان کا کوئی عزیز فلاں سفر پر گیا تو پھر وہ واپس نہ آیا بلکہ اسی جگہ فوت ہو گیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اگر وہ سفر پر نہ جاتا تو نہ مرتا۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں۔جماعت کے دلوں پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں آئے اور اس جگہ آ کر فوت ہو گئے۔خود لاہور کی پیشانی پر بھی ایک بدنما داغ تھا مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کے ذریعہ خبر دی گئی تھی کہ لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں، اور یہ کہ نظیف مٹی کے ہیں، ۸۹ خدا تعالیٰ نے پاک ممبروں کی دعاؤں کو سن کر لاہور کی پیشانی سے اس داغ کو ہمیشہ کے لئے دور کر دیا اور مسیح موعود کو لاہور میں ہی دوبارہ زندہ کر دیا۔اب لاہور والے کہہ سکتے ہیں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں فوت ہوئے مگر وہ دوبارہ زندہ بھی ہمارے شہر میں ہی ہوئے ہیں۔پس وہ جو لا ہور والوں پر ایک داغ تھا خدا نے اس انکشاف کے ذریعہ اس داغ کو دھو دیا اور گومونہہ سے احمدی اس بات کا اظہار نہیں کرتے تھے مگر لاہور کا ذکر آنے پر ان کے دل ضرور بے چین ہو جاتے تھے کہ یہ کیا شہر ہے جس میں خدا کا مسیح چند روز کے لئے گیا اور فوت ہو گیا۔پس یہ داغ خدا نے لاہور سے اب دور کر دیا ہے مگر اس چیز سے وہ ذاتی طور پر اس وقت فائد واٹھا سکتے ہیں جب ان میں عمل کی قوت موجود ہو " 20 حضرت امیر المومنین خلیفتہ اصسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس نشان کے لاہور میں ظاہر ہونے کی جو حکمت بیان کی ہے لاہور کے موجودہ اور بعد میں آنے والے احمدیوں کو چاہئے کہ اس حکمت کو مد نظر رکھ کر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور سلسلہ کی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اصحاب مسیح موعود کا فوٹو ہوا امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ جس رات حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلح موعود ہونے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی گئی۔اس سے اگلے روز یعنی ۶۔جنوری