لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 490
490 و مستعفی ہو جاؤ ایک حج سے استعفاء کا مطالبہ کرنا ہی اس کی سخت ہتک ہے۔دوسرے اس مضمون میں لکھا ہے کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے جو غیر معمولی فیصلہ ہے ان کی تحقیقات ہونا چاہیئے۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ فاضل جج نے ایمانداری سے فیصلہ نہیں کیا آپ کے بعد مسٹر ظفر اللہ نے ثابت کیا کہ کسی حج سے استعفاء کا مطالبہ کرنا اس کی ہتک کرنا نہیں ہے۔اس کو عدالت نے تسلیم کیا۔آپ نے کہا کہ ملزمین نے نہایت دلیرانہ جواب دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں ہیں۔جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد یہ نہ تھا کہ حج کی نیت پر حملہ کریں تو ہمیں ان کے بیان پر اعتماد کرنا چاہیئے۔وہ اس امر کی تحقیقات چاہتے ہیں کہ آیا اس مقدمہ میں سرکاری وکیل نے خوب بحث کی یا نہ کی اور جج نے اس کو دو ججوں کے سپر د کیوں نہ کر دیا۔اکیلے کیوں فیصلہ کیا وغیرہ وغیرہ آپ نے کہا کہ ایک فقرہ کے بھلے اور برے دو معنی ہو سکتے ہیں اس کے جو بھلے معنی ہیں عدالت ان کو اختیار کرے۔‘۴۹ مولوی نور الحق صاحب کی جانب سے مسٹر نیاز محمد نے کہا کہ وہ محض ناشر اور طالبع ہیں اور انگریزی نہیں جانتے لہذا ان کی ذمہ داری کم ہے۔آپ نے کئی حوالے پیش کئے۔مگر مولوی نورالحق صاحب نے خود اٹھ کر کہہ دیا میں تمام الزام کو قبول کرتا ہوں۔“ عدالت کا فیصلہ ۵۰،، عدالت نے سید دلاور شاہ صاحب بخاری، مولوی نور الحق صاحب کے بیانات اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی بحث سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ د میں سید بخاری کو چھ ماہ قید محض اور ساڑھے سات سو روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی چھ ہفتہ مزید قید محض کی سزا دیتا ہوں اور مولوی نورالحق کو تین ماہ قید محض ہزار روپے جرمانہ اور بصورت عدام ادا ئیگی مزید ایک ماہ قید محض کا حکم سنا تا ہوں۔تمام جوں نے اس سزا سے اتفاق کیا۔فوراً پولیس کے افسروں نے ملزمین کو گھیر لیا۔وارنٹ تیار تھے۔انہیں موٹر میں بٹھا کر سنٹرل جیل کو لے گئے۔۵۱