لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 474 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 474

474 صاحب والی مسجد کا ذکر ہو رہا تھا۔یہ سب سے پہلی مسجد تھی جو جماعت کو اللہ کریم نے عطا کی۔جب تک حضرت مولوی صاحب زندہ رہے اس مسجد میں نمازیں بھی پانچوں وقت باجماعت ہوا کرتی تھیں اور جمعہ بھی۔مگر حضرت مولوی صاحب کی وفات پر جمعہ حضرت مولوی غلام حسین صاحب کی گئی بازار والی خوبصورت مسجد میں پڑھا جانے لگا۔کچھ عرصہ بعد جب میاں فیملی کے بزرگوں نے وہاں سے نقل مکانی کر لی اور اپنے رہائشی مکان دہلی دروازہ کے باہر بنالئے تو وہ مسجد ہاتھ سے نکل گئی کیونکہ اس مسجد کے قرب و جوار میں کوئی احمدی نہیں تھا۔حسین گمٹی بازار والی مسجد دوسری مسجد گئی بازار میں ہے یہ بڑی پختہ اور خوبصورت مسجد ہے جو حضرت مولوی غلام صاحب متولی مسجد کے احمدی ہو جانے کی وجہ سے جماعت کو ملی۔ان دونوں مسجدوں میں جماعت کے اولین صحابہ نے نمازیں پڑھی ہیں۔اول الذکر مسجد میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ بھی نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید کا بل نے ان دونوں مسجدوں میں نمازیں پڑھی ہیں۔حضرت مولوی غلام حسین صاحب جب تک زندہ رہے ان کی مسجد میں نمازیں ہوتی رہیں۔جمعہ بھی اسی مسجد میں پڑھا جاتا تھا مگر ان کی وفات پر اس مسجد کے قریب کو چہ نقاشاں کے ماسٹر حسین بخش و ماسٹر میراں بخش صاحبان نے اس مسجد کو حنفی الخیال لوگوں کے استعمال کے لئے عدالت میں چارہ جوئی کی۔جماعت کی طرف سے محترم خواجہ کمال الدین صاحب وکیل تھے۔اور یہ وہ زمانہ تھا جب کہ احمد یہ بلڈ نگکس والی مسجد کی تعمیر کے لئے زمین خریدی جارہی تھی۔خواجہ صاحب نے غالباً اس خیال سے بھی کہ اس مسجد کے ارد گر د احمدیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے اور احمد یہ بلڈ نگس کی نئی مسجد کی تعمیر کے پیش نظر بھی اس امر پر صلح کر لی کہ فریق مخالف چھ صدر و پیرادا کر کے مسجد پر قبضہ کر لے۔چنانچہ اس رقم میں جماعت لاہور کے ممبروں نے اور روپیہ شامل کر کے احمد یہ بلڈ نکس والی مسجد تعمیر کرالی۔مگر جب خلافت ثانیہ کی ابتداء میں اختلاف پیدا ہوا تو وہ مسجد غیر مبائعین کے پاس رہی اور مبائعین جماعت لاہور نے حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کی بیٹھک میں نمازیں پڑھنا شروع کر دیں۔