لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 457
457 ۱۹۲۰ء میں حضرت امیر المومنین کی لاہور میں تقریریں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے زمانہ امارت کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ کے زمانہ میں حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ جب بھی لا ہور تشریف لاتے تھے اونچے طبقہ کے لوگ حضور سے ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے اور پبلک تقریریں بھی بکثرت ہوا کرتی تھیں جن سے ہر طبقہ کے لوگ فائدہ اٹھاتے تھے۔چنانچہ جب ۱۳۔فروری ۱۹۲۰ء کو لاہور میں تشریف لائے اور ایک عشرہ قیام فرمایا تو اس اثنا میں حضور نے پانچ اہم تقریریں فرما ئیں۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے: (۱) پہلی تقریر ۱۵۔فروری کو بریڈ لاء ہال میں حضرت خان ذوالفقار علی خاں صاحب کی صدارت میں ہوئی۔اس تقریر میں حضور نے وزیر اعظم انگلستان کے اس ادعاء کو عقلی اور نقلی دلائل سے غلط ثابت کیا کہ آئندہ دنیا کا امن عیسائیت کے ساتھ وابستہ ہے۔حضور نے دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ واضح فرمایا کہ مستبقل میں دنیا کا امن صرف اسلام کے ساتھ وابستہ ہے۔کے (۲) دوسری تقریر واقعات خلافت علوی کے موضوع پر خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب کی صدارت میں حبیبیہ ہال میں ہوئی جس کا انتظام لاہور کی مارٹن ہسٹار یکل سوسائٹی نے کیا تھا۔اس تاریخی تقریر میں بھی حضور کا اسلوب بیان واقعات کی چھان بین اور طرز استدلال اسی رنگ کا تھا جو حضور کے مشہور لیکچر اسلام میں اختلافات کا آغاز میں پایا گیا تھا۔حاضرین جلسہ پر اس تقریر کے اثر کا کچھ اندازہ صاحب صدر کے ان ریمارکس سے ہو سکتا ہے جو انہوں نے تقریر کے خاتمہ پر دیئے۔انہوں نے فرمایا: حضرات ! میں آپ سب صاحبان کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس پر زور خطابت اور پراز معلومات تقریر کے لئے جو آپ نے اس وقت ہمارے سامنے کی ہے میں نے دیکھا ہے کہ حضرت نے قریباً تین گھنٹے تقریر کی ہے اور آپ صاحبان نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی ہے۔اس تقریر سے جو وسیع معلومات اسلامی تاریخ کے متعلق معلوم ہوئے ہیں ان میں سے بعض بالکل غیر معمولی ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کی تلاش اور تجسس کے لئے کسی وقت