لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 42
42 اسی طرح حضرت کی پیشگوئی بھی (نعوذ باللہ ) چھوٹی ثابت ہو گی۔مگر دیکھئے خدائے ذوالجلال کا فیصلہ کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی کے پانچویں سال عید الفطر کے دوسرے روز ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو شام کے 4 بجے پنڈت لیکھرام صاحب اپنے مکان واقعہ وچھو والی میں کسی نامعلوم شخص کے ہاتھوں چُھری کے ذریعہ قتل ہو گئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ پنڈت صاحب کے پاس ایک مسلمان شدھ ہونے کیلئے آیا ہوا تھا۔پنڈت جی کرسی پر بیٹھے تصنیف کا کام کر رہے تھے اور وہ سامنے کمبل اوڑھے زمین پر بیٹھا تھا۔پنڈت جی نے جب ذرا ستانے کیلئے کھڑے ہو کر انگڑائی لی تو اس نے اس زور سے چُھری ان کے پیٹ میں گھونپی کہ انتڑیاں باہر نکل آئیں۔منہ سے شدت درد کی وجہ سے بیل کی سی آواز سن کر ان کی ماں اور بیوی بھی جو کسی دوسرے کمرہ میں تھیں، پہنچ گئیں مگر قاتل غائب ہو چکا تھا۔نہ معلوم او پر چڑھ گیا یا نیچے اتر گیا۔کئی قسم کی روائتیں اس کے متعلق مشہور ہیں۔مگر یہ حقیقت ہے کہ باوجود تلاش بسیار قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلا۔لاہور کے بڑے بڑے مسلمان گھرانوں کی تلاشیاں بھی ہوئیں۔قادیان میں حضرت اقدس کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی مگر قاتل کا کہیں سے بھی سراغ نہ مل سکا۔اب پنڈت جی کا حال سنئے۔انہیں پولیس کی مدد سے فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم ( جو ان ایام میں میڈیکل کالج کے طالب علم تھے ) ڈیوٹی پر تھے آپریشن انگریز ڈاکٹر پیری نے کرنا تھا۔جب ان کے آنے میں ذرا تاخیر ہوئی تو ڈاکٹر صاحب موصوف کا بیان ہے کہ پنڈت جی نے بار بار یہ کہنا شروع کیا کہ "ہائے میری قسمت! کوئی ڈاکٹر بھی نہیں بوہر دا یعنی ڈاکٹر بھی نہیں پہنچتا۔خیر کچھ انتظار کے بعد جب ڈاکٹر صاحب آگئے تو چونکہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کے معاون تھے اس لئے وہ انہیں بار بار مرزا صاحب! مرزا صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔جب بار باران کی زبان سے مرزا صاحب کے الفاظ نکلے تو پنڈت جی یہ سمجھ کر کانپ اٹھے کہ شاید یہاں ہسپتال میں بھی وہی مرزا صاحب آگئے ہیں۔خیر ڈاکٹر صاحب نے رات بارہ بجے تک آپریشن کا کام ختم کیا۔مگر ابھی وہ ہاتھ ہی دھو ر ہے تھے کہ زخم کے ٹانکے کھل گئے اور ان کو دوبارہ سینا پڑا۔اس وقت پولیس والوں نے پنڈت جی کا بیان لینا چاہا مگر ڈاکٹر نے یہ کہہ کر روک دیا کہ اس میں جان کا خطرہ ہے۔مگر تکلیف لحظہ بہ لحظہ بڑھتی چلی گئی۔یہاں تک کہ چار بجے صبح پنڈت جی چل بسے اور جس طرح پیشگوئی میں بتایا گیا تھا۔سامری کے بچھڑے کی طرح پنڈت جی کی ارتھی جلائی گئی اور راکھ دریا میں ڈال دی گئی۔