لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 298 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 298

298 اور اگر اس طرح مجھے قابو میں لانا چاہیں کہ إِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُ وُنَ تو میں قابو میں نہیں آ سکتا۔پھر میں حضور کے پاؤں دبانے لگ گیا تو فضل حسین نے اس بات کو چھوڑ کر سوال کیا۔میاں فضل حسین : حضور کا خیال معراج کے متعلق کیا ہے؟ حضور : مَا جَعَلْنَا الرُّءُ يَا التِي اَرَيْنَاكَ میاں صاحب : شق القمر کے متعلق حضور کا کیا خیال ہے؟ حضور : لطیف ترین کشوف میں سے تھا۔اس کے بعد وہ رئیس چونکہ مولوی صاحب سے بھی ملنا چاہتے تھے اور حضرت مولوی صاحب اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب کے کمرہ میں مطب کر رہے تھے۔ہم وہاں چلے گئے۔۔۔میاں فضل حسین صاحب اور حضور کی گفتگو کو خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بذریعہ اشتہار شائع کیا تھا۔اور اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے دستخط بھی کروائے تھے۔مگر افسوس کہ آخری حصہ گفتگو کا جس میں حضور علیہ السلام نے قرآن کی آیت کو ان پر چسپاں کیا تھا اس کو چھوڑ دیا۔حضرت شیخ صاحب کئی سال تک متواتر جمعہ وعیدین کے خطبات پڑھتے رہے۔اولاد: شیخ نذیر احمد صاحب مرحوم گورنمنٹ کنٹریکٹر سیالکوٹ چھاؤنی۔شیخ بشیر احمد صاحب سینئر ایڈووکیٹ و سابق حج ہائیکورٹ مغربی پاکستان۔شیخ محمد اسلم صاحب مرحوم گورنمنٹ کنٹریکٹر۔شیخ محمد اسحاق صاحب۔ہاجرہ بیگم۔سلیمہ بیگم مرحومہ۔آمنہ بیگم محمودہ بیگم حضرت خان صاحب میاں محمد یوسف صاحب ولادت : ۱۸۸۸ء بیعت : ۱۹۰۱ء حضرت خان صاحب میاں محمد یوسف صاحب نائب امیر جماعت احمد یہ لاہور ولد حضرت میاں ہدایت اللہ صاحب سپرنٹنڈنٹ پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور مزنگ نے فرمایا ا۔حضرت جب جہلم تشریف لے گئے۔میں اس زمانہ میں طالبعلم تھا۔مجھے یاد ہے کہ حضور نے