لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 277
277 محترم میاں محمد دین صاحب ولادت : بیعت : ۱۹۰۰ ء وفات: ۱۹۵۰ء واء مکرم و محترم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری مبلغ جماعت احمد یہ مقیم سنگا پور نے اپنے بزرگوں کے مختصر سے حالات الفضل ۲۸ مارچ و ۳۰۔مارچ ۱۹۶۵ء میں لکھے ہیں۔اس میں آپ لکھتے ہیں : ” سب سے پہلے تقریباً ۱۹۰۰ء میں خاکسار کے تین بزرگوں نے یعنی مکرم میاں جمال دین صاحب مکرم میاں محمد دین صاحب اور مکرم میاں کرم دین صاحب نے ملتان سے جہاں کہ وہ چند ماہ کے لئے اپنے گاؤں بھڈیار ( تحصیل اٹاری ضلع امرتسر۔ناقل ) سے کسب معاش کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے۔بذریعہ خطوط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور بعد میں حضور کے ملتان تشریف لے جانے پر وہیں حضور سے ملاقات کا شرف بھی انہیں حاصل ہوا، محترم میاں محمد دین صاحب جن کا ذکر یہاں مقصود ہے۔ان کا بیان ہے کہ انہوں نے ملتان میں ایک بزرگ عالم میاں الہی بخش صاحب سے سنا کہ قادیان میں کسی بزرگ نے مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے۔چنانچہ انہوں نے مولوی صاحب موصوف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب نورالقرآن ہر دو حصہ لے کر پڑھی۔اس کتاب کے ابھی چند ہی صفحات پڑھے تھے کہ ان کو انشراح صدر ہو گیا۔تاہم اسی وقت اٹھ کر نفل پڑھنے شروع کئے اور سجدہ میں دعا کی کہ ”اے مولیٰ کریم یہ تو سچا معلوم ہوتا ہے۔اگر واقعی یہ تیرا مرسل اور برگزیدہ مسیح موعود ہے تو اے مولیٰ تو ہمارے سارے خاندان کو اسے قبول کرنے اور اس کی جماعت میں شامل ہونے کا شرف عطا فرما۔‘۴۰ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا سفر ۱۹۰۰ ء کے بعد نہیں بلکہ ۱۹۰ء سے تین سال قبل اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ہوا ہے۔( حیاۃ طیبہ ایڈیشن اوّل صفحہ ۲۳۵) لہذا ان بزرگوں کی بیعت نصف آخر ۱۸۹۷ء کی معلوم ہوتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس بزرگ سے محترم مولوی صاحب نے یہ واقعہ سنا انہیں سن کے متعلق سہو ہوا ہے۔مگر حضور کے ملتان تشریف لے جانے کا تعلق چونکہ ایک واقعہ سے ہے اور واقعات عمو مایا درہتے ہیں۔اس لئے صحیح امر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی بیعت ۱۸۹۷ء کی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔یہاں ۱۹۰۰ء میں ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ ۱۸۹۹ء تک کے صحابہ کے حالات کی کتابت ہو چکی ہے۔(مؤلف)