لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 19 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 19

19 کرتا تھا۔بعض میں تو کمزوری پیدا ہوگئی ہے اور بعض اپنے آپ کو نمایاں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔جلسہ مذاہب عالم کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مضمون لکھا اور جو آج کل ساری دنیا میں پیش کیا جاتا ہے وہ بھی اس لاہور میں پڑھا گیا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو آخری پیغام ”پیغام صلح کے نام سے دیا اور جو اپنے اندر وصیت کا ایک رنگ رکھتا ہے وہ بھی لاہور میں ہی پڑھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آخری ایام بھی اسی جگہ گزارے اور پھر یہیں آپ دنیا سے جدا ہوئے۔اس کے بعد جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا تو مخالفت کا مرکز بھی یہی لا ہور بنا اور موافقت کا مرکز بھی لا ہور تھا۔اس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے بہت کم تھی۔باہر سے بھی اگر لوگ آ جاتے تو ان کو شامل کر کے یہاں کی جماعت اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت خطبہ میں بیٹھی ہے مگر اس وقت اخلاص اور محبت کی یہ کیفیت تھی کہ جب میں لاہور میں آتا تو سینکڑوں لوگ اردگرد کی جماعتوں کے لاہور میں آجاتے اور یہاں کا ہر احمدی دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتا اور اسے یہ محسوس بھی نہ ہونے دیتا کہ وہ لاہور میں ایک مسافر کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن اب یہ کیفیت نظر نہیں آتی۔اب لوگ مسافروں کی طرح آتے اور چلے جاتے ہیں۔ان کے متعلق جماعت کے دوستوں میں وہ شوق اور انس نہیں پایا جاتا جو پہلے پایا جا تا تھا۔۱۹۔۲۰ - ۱۹۲۱ء تک یہ کیفیت تھی کہ میرے لاہور آنے پر سیالکوٹ، جہلم، گجرات، شیخو پورہ اور منٹگمری وغیرہ اضلاع کے احمدیوں میں سے آ کر یہاں اکٹھے ہو جاتے اور ان کا لاہور میں قریباً اس وقت تک قیام رہتا جب تک میں یہاں موجود رہتا۔مگر اب جماعت کی تعداد تو زیادہ ہوگئی ہے مگر اس میں وہ بات نہیں رہی جو پہلے پائی جاتی تھی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اس مقام کی قدروقیمت کو نہیں پہچانا جو انہیں پہلے حاصل تھا۔اگر وہ آنے والوں سے ایسی محبت اور پیار کے ساتھ پیش آتے جس محبت اور پیار سے وہ پہلے پیش آیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ لوگ یہاں کثرت کے ساتھ نہ آتے رہتے۔میرا تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں میں ایمان کم نہیں ہورہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔صرف کچھ لوگوں میں اپنی ذمہ داری کے احساس میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔اگر یہاں کی جماعت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی تو یقیناً یہاں پہلے سے بھی زیادہ لوگ آتے۔بہر حال ابتدائی ایام میں لوگوں نے اپنی ذمہ داری سمجھی اور خدا تعالیٰ نے بھی کہا کہ