لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 172 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 172

172 ہوا ہے اور انہوں نے ابتداء میں بہت اینٹ پتھر اور گالی گلوچ برداشت کی ہے مگر یہ کوئی زیادہ عجیب بات نہیں کیونکہ یہ تو عشق کے کوچے کا پہلا قدم ہے۔شرط اول قدم آنست که مجنوں باشی ”میاں چراغ دین کے صاحبزادے میاں عبدالعزیز مسبوق الذکر میاں عبدالمجید اور میاں عبدالرشید اور میاں محمد سعید سعدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سچے خادم اور خلافت احمدیہ کے ساتھ دلی تعلق اور اخلاص رکھنے والے ہیں۔”میاں صاحب مرحوم کے سب سے بڑے لڑکے حکیم محمد حسین مرہم عیسی ہیں جن سے احمدی جماعت خوب واقف ہے۔کیا تماشہ ہے کہ حکیم صاحب جس طرح مخالفت میں نمایاں ہیں اسی طرح سلسلہ کی واقفیت میں میاں صاحب کا تمام خاندان بالعموم اور بالخصوص بلحاظ سلسلہ کی قلمی خدمت اور مسائل سلسلہ کی اخص واقفیت کے میاں سعدی میاں چراغ دین مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے بہت نمایاں ہیں۔آپ کا تمام کنبہ خدائی سلسلہ میں منسلک ہے۔آپ کے بھائی آپ کے بھتیجے، آپ کے لڑکے لڑکیاں پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں سب احمدی ہیں۔آپ کے بھائی میاں تاج الدین صاحب اور سراج الدین صاحب اور میاں معراج الدین صاحب عمر ( جو چچا زاد بھائی ہیں ) پرانے اور با اخلاص احمدی ہیں۔میاں محمد شریف صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر آپ کے بھتیجے اور مخلص احمدی ہیں۔اور حضرت خلیفہ اسیح اوّل سے آپ کو دلی تعلق تھا۔آپ کے خاندان سے دلی محبت تھی اور حضرت خلیفہ ثانی کے جاں نثاروں اور وفاشعاروں میں ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے مسیح موعود کو آپ سے محبت تھی اور آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین سو تیرہ اصحاب میں شامل ہیں۔حضرت اقدس آپ کے مکان پر ٹھہرنے کو ترجیح دیتے۔۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرحوم کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔دروازے کے سامنے ایک شیشم کا درخت تھا۔اس پر ایک مولوی چڑھا بیٹھا رہتا تھا۔اور مسیح موعود کو گالیاں دیتا رہتا تھا۔قاضی اکمل صاحب بتاتے تھے کہ لوگ اس مولوی کو ٹا ہلی مولوی‘ کہنے لگ گئے تھے۔