لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 155 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 155

155 سے تعلق تھا۔مگر پھر انجمن حمایت اسلام کے کارکن بن گئے اور لائف سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔جماعت سے تعلق توڑ دیا۔انداز ۱۹۴۰ء میں فوت ہوئے۔ان کا نام بھی جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں درج ہے۔محترم جمعدار فضل دین صاحب کا بیان ہے کہ منشی شمس الدین صاحب کی میاں الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ کے ساتھ دوستی تھی۔جب وہ حضرت اقدس کی پیشگوئی کے ماتحت طاعون کا شکار ہو گیا تو میں لاہور میں ان دنوں نقشہ نویسی کا کام سیکھ رہا تھا۔ایک روز حاجی منشی نشمس الدین صاحب کو جو ملنے کے لئے گیا تو حاجی صاحب ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے۔دوران گفتگو میں انہوں نے اس امر کا اقرار کیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔جناب حافظ فضل احمد صاحب (غیر مبائع) ولادت: بیعت : ابتدائی زمانہ میں وفات: جناب حافظ فضل احمد صاحب کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ " انجام آتھم میں ۸۹ نمبر پر درج فرمایا ہے۔محترم حافظ صاحب گجرات کے باشندہ تھے اور ایگزامینر آفس لاہور میں کلرک تھے۔جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست مندرجہ آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا نام درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔آپ نے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں چار آنہ ماہوار چندہ دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ان کا تعلق جناب شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی کے ساتھ تھا اس لئے آخری عمر میں غیر مبائعین میں شامل ہو گئے تھے۔حضرت میاں کرم الہی صاحب ولادت: بیعت : ابتدائی زمانہ میں وفات : ۱۶۔دسمبر ۱۹۳۴ء حضرت میاں کرم الہی صاحب کمپوزیر محترم صوفی فضل الہی صاحب مرحوم کے والد تھے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مرید تھے۔نماز باجماعت کے بڑے پابند تھے۔خاموش طبع مگر ہنس مکھ تھے۔۱۶۔دسمبر ۱۹۳۴ء کو فوت ہوئے۔کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔انجام آتھم میں مندرجہ ۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں آپ کا نام ۲۹۰ نمبر ہے۔اولاد: صوفی فضل الہی، فضل احمد بشیر احمد مرحوم حمیدہ بیگم۔