تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 75 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 75

تاریخ افکار را سلامی ۷۵ اجماع احکام شرعیہ کا تیسرا ماخذ اجماع ہے۔اجماع سے مراد امت مسلمہ کے ارباب حل و عقد اور اجتہاد کا ملکہ رکھنے والے اصحاب علم کا کسی ایسے مسئلہ کے بارے میں اتفاق ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وضاحت قرآن یا سنت ثابتہ میں موجود نہ ہو۔صحابہ کے ایسے اتفاق اور اجماع کو اہل السنت والجماعت حجت شرعیہ تسلیم کرتے ہیں لے صحابہ کے بعد آنے والے مجتہدین کے اتفاق کی کیا اہمیت ہے۔اس سلسلہ میں اختلاف ہے بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اصولاً یہ اتفاق بھی اجماع اور واجب التسلیم ہے۔اور بعض دوسرے ہے اہل علم کا کہنا ہے کہ دور صحابہ کے بعد ایسے اجماع کا وجود مشتبہ ہے۔نہ یہ معین ہے کہ بعد کے زمانہ میں کون کون علماء درجہ اجتہاد پر فائز تھے اور کہاں کہاں اور کس کس ملک میں وہ رہتے تھے اور نہ کسی مسئلہ پر ان سب کے اتفاق کا علم عملا میسر آسکتا ہے۔سے امام مالک اہل مدینہ کے اجتماع کو بھی بطور حجت شرعیہ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اہل مدینہ صحابہ کے عمل مستمر کے شاہد اور گواہ ہیں اور ان کے اتفاق کو جو انتخاب خلافت کے سلسلہ میں تھا ل هناك اجماع لا يُساغ بمسلم ان ينكره كالاجماع على عدد ركعات الصلوة وعدد الفرائض وفرضية الزكواة وغيرها يخرج عن الاسلام من لم يؤمن بها لان هذا الاجماع معتمد على أقوى النصوص سندا ودلالة ولان العلم بهذه الامور علم العامة اى العلم الذى لا يسع لمُسلم أن يُجْهَلَهُ۔(محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۷۳۷۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔اِنَّ أُمَّتِي لا تجتمع على ضلالة (ابوداؤد كتاب الفتن باب ذكر الفتن - سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب السواد الأعظم ) لا يمكن ان يتفق العلماء في كل الاقاليم الاسلامية المتنائية على رأي واحد (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۷۴)