تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 61 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 61

تاریخ افکار را سلامی ۶۱ صرف جائز ہے بلکہ تمام محقق علماء نے تفسیر کے اس انداز کو اختیار کیا ہے اور اس راہ پر چلتے ہوئے انہوں نے انتہائی گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں اور مینی بر حقائق تفاسیر لکھی ہیں۔سنت و حدیث شریعت کا دوسرا ماخذ سنت ہے۔فقہاء کی اصطلاح میں سنت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب تواتر عملی نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت شدہ وہ اقوال اور افعال ہیں جنہیں تو اثر عملی کا درجہ تو حاصل نہ ہو لیکن صحیح سند کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہو کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا فرمایا تھایا ایسا کیا تھا اسی طرح کسی صحابی کا ایسا قول یا عمل جو حضور کے علم میں آیا ہو لیکن آپ نے اس کے متعلق کسی ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا ہو بلکہ پسند کا تاثر ملتا ہو یا آپ خاموش رہے ہوں۔اس تیسری صورت کا اصطلاحی نام حدیث تقریر ی ہے لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تواتر عملی اور آپ کے ثابت شدہ ارشادات بھی اسی طرح حجت ثابتہ اور ماخذ شرعی ہیں جس طرح قرآن کریم ماخذ شریعت ہے اس میں کسی بچے مسلمان کا کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اگر ایک طرف مبلغ کتاب تھے تو دوسری طرف آپ میتین اور مفسر کتاب بھی تھے۔یہ دونوں فریضے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے سپرد ہوئے تھے۔اس سلسلہ میں اگر اختلاف ہے تو احادیث کی سند کے لحاظ سے ہے یا حدیث کے معنے کی تعیین کے اعتبار سے۔سند کے لحاظ سے یہ اختلاف ہے کہ جن راویوں کے ذریعہ کوئی حدیث بعد کے لوگوں تک پہنچی ہے وہ کیسے تھے ، کتنے تھے ، ان کا مقام اعتبار کیا تھا، وہ ضعیف اور غیر معتبر تو نہیں تھے یا سند کے درمیان کوئی راوی رہ تو نہیں گیا یا کسی زیادہ ثقہ راوی نے اس سے اختلاف تو نہیں کیا۔ل السنة و الحديث ما جاء عن رسول الله من اقوال وافعال او اقرار الاقوال او افعال صدرت عمن سواه (ابو حنیفه صفحه ۱۵۵ مالک بن انس صفحه (۱۶۷) العلماء مجموعون على ان رد التنازعات الى الله والى الرسول حسبما وردت الآية " فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء: ٦٠) واجب۔۔۔۔۔ومن قال لا نقبل الا ما جاء به القرآن فهو کافر بلا جدال مالک بن انس صفحه ۱۶۸۰۱۶۷) قال الله تعالى إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِلَ إِلَيْهِمْ (نحل: ۳۵)