تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 386 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 386

تاریخ افکا را سلامی PAY اس الغوی تحقیق کے بعد اب اُن روایات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے جو دجال کے خروج اور اُس کے ہولناک فتنہ کے بارہ میں کتب حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔قریباً تمام قابل ذکر مستند مجموعہ ہائے احادیث اور دوسری کتب دینیہ میں دجال کے آنے کا ذکر موجود ہے۔ان میں سے ایک صحیح بخاری ہے جس میں یہ حدیث روایت کی گئی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہر زمانہ کے نبی نے اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا ہے اور آپ اپنے صحابہ کو اس فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دعا یاد کرنے اور با قاعدگی کے ساتھ پڑھتے رہنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔اللَّهُمَّ اِنّى اَعْوَذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحَ الدَّجَّالِ کہ اے اللہ میں الْمَسِيحُ الدَّجال کے فتنہ سے بچنے کے لئے تیری پناہ چاہتا ہوں۔۔دنجال کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث بڑی معنی خیز ہے۔اس روایت کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے۔ایک مشہور صحابی تمیم الداری نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اپنا ایک واقعہ سے سنایا جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (با علام الہی ) تصدیق فرمائی اور دوسرے صحابہ کے سامنے بھی ا اسے بیان کیا۔اس واقعہ میں حضرت تمیم الداری بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مغربی سمندر کے سفر پر گئے۔سمندر کی موجیں ان کی کشتی کو ایک جزیرہ کے قریب لے گئیں۔وہ چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرہ میں جا اترے۔اس جزیرہ میں انہوں نے ایک عجیب و غریب خوفناک شکل والی عورت کو دیکھا بالوں کی وجہ سے جس کے نہ منہ کا پتہ چلتا تھا نہ پیٹھ کا ، اُس عورت نے اپنا نام جنا سہ سے بتایا۔اس عورت سے تمیم داری اور ان کے ساتھیوں کی بعض باتیں ہوئیں۔ل مسیح کے ایک متنے ملک ملک بہت گھومنے پھرنے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھانے والے کے ہیں اسی بناء پر پھیسٹی اور دجال دونوں کو المسيح “ کہا گیا ہے گویا عیسٹی نیکی پھیلانے اور ہدایت کی شمع روشن کرنے کے لئے سفر میں رہے گا اور اس کے بالمقابل دجال فحاشی اور بے دینی پھیلانے اور استحصالی اغراض پوری کرنے کے لئے گھومے گا۔پس عیسی مَسِيحُ الخَیر ہے اورد جال مَسِيحُ الشَّر - بخاری کتاب الفتن باب ذكر الدجال ✓ غالبا یہ واقعہ ایک خواب یا کشف کی صورت میں تھا۔واللہ اعلم بالصواب صحيح مسلم كتاب الفتن باب ذكر الجساسه