تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 373 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 373

تاریخ افکا را سلامی اس عظیم مہدی دوراں" کی صداقت کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کی صداقت کی گواہی آسمان دے گا اور وہ اس طرح کہ اُس کے دعوئی کے بعد رمضان کے مہینہ کی تیرہ تاریخ میں چاند گرہن ہوگا اور اسی مہینہ کی اٹھائیس تاریخ میں سورج کو گرہن لگے گا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔إِنَّ لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ " الْقَمَرُ لَاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ » یعنی ہمارے اس مہدی کی صداقت کی دونشانیاں ایسی ہیں کہ آسمان وزمین کی پیدائش کے آغاز سے بطور نشان کبھی ظاہر نہیں ہوئیں۔اول یہ کہ رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن ( کی تاریخوں ۱۳ ۱۴ ۱۵ میں سے ) پہلی تاریخ (یعنی (۱۳) کو گرہن ہوگا اور اسی مہینہ میں ( سورج گرہن کی تاریخوں ۲۷ ۲۸ ۲۹ میں سے ) درمیانی (یعنی ۲۸) تاریخ کو سورج گرہن ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعویٰ مہدویت کے بعد ۱۳۱۱ھ کے رمضان کی ۱۳ تا ریخ کو چاند گرہن ہوا اور اسی مہینہ کی اٹھائیس تاریخ میں سورج گرہن ہوا۔عیسوی لحاظ سے یہ ۱۸۹۴ء تھا۔۔در اصل یہ حدیث قرآن کریم کی آیات فَإِذَا بَرقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجَمِعَ ا القمسُ وَالْقَمَرَ يَقُولُ الْإِنسَانُ يَومَن اين NANA کی تفسیر ہے اور اس کی تائید انجیل اور دوسرے بزرگوں کی تشریحات سے بھی ہوتی ہے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس نشان کے ظہور کے سلسلہ میں فرماتے ہیں جب سے نسلِ انسانی دنیا میں آئی نشان“ کے طور پر یہ خسوف و کسوف صرف 1 سنن الدارقطنی، کتاب العيدين باب صفة صلاة الخسوف - بحار الانوار جلد۵۲ صفحه ۲۱۴،۲۱۳ داراحياء التراث العربی بیروت لبنان طبع ثالث ۱۹۸۳ء ۲ در اصل یه نشان دو دفعہ ظاہر ہوا پہلے سال یعنی ۱۸۹۴ء میں مشرقی ممالک میں یہ ظاہر ہوا اور اگلے سال یعنی ۱۸۹۵ء میں مغربی ممالک امریکہ وغیرہ میں اس کا ظہور ہوا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۸۹ء کو مہدویت کا جھوٹی کیا اور اس کے دو سال بعد ۱۸۹۱ء میں آپ نے کھل طور پر مسیحیت کا دعوی کیا۔اس سال آپ نے جماعت احمدیہ کی بنیا د رکھی۔کے القيامة : ۱۱۲۸ متی باب ۲۴ آیت ۳۰- حجج الكرامه صفر ۳۴۴