تاریخ افکار اسلامی — Page 355
تاریخ افکارا سلامی ۳۵۵ گی لیکن وہ کوئی متوقع انقلاب بپا کئے بغیر فوت ہو گئے۔اس پر ان کے عقیدتمندوں کو مایوسی سے بچانے کے لئے اس نظریہ کو شہرت ملی کہ محمد بن حنیفہ در اصل فوت نہیں ہوئے بلکہ رضوی نامی پہاڑوں میں چھپ گئے ہیں۔جنگل کے شیران کی حفاظت پر مامور ہیں اور وہاں شہد اور پانی کے چشمے ان کی خوراک کے لئے موجود ہیں۔یہی وہ وقت ہے جبکہ ”مہدی منتظر“ کے نظریہ نے فروغ پایا جس کے ایک معنے یہ متعین ہوئے کہ فلاں بزرگ مہدی ہیں وہ اس وقت تو غائب ہو گئے ہیں لیکن بعد میں کسی مناسب موقع پر ظاہر ہوں گے، دشمن کو قتل کریں گے اور اپنے متبعین کو بام عروج تک پہنچا ئیں گے۔دوسرا مفہوم یہ مشہور ہوا کہ اگر چہ وہ اس وقت فوت ہو گئے ہیں یا دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ہیں لیکن بعد میں جب اللہ تعالیٰ چاہے گا انہیں زندہ کر کے دوبارہ دنیا میں بھیجے گا تا کہ وہ عدل وانصاف کے لئے ایک عظیم انقلاب بپا کریں۔بہر حال ” مہدی“ کے اس متعارف مفہوم کے علی الرغم ایسی روایات بھی موجود ہیں جو عمومی مفہوم کے لحاظ سے متعد دمہدیوں کے آنے کے امکان کو نا بہت کرتی ہیں۔مثلاً ایک روایت یہ ہے کہ لَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيتِى يُوَاطِئُ اِسْمُهُ اِسْمِى اس مفہوم کی متعدد روایات ہیں کو یہ سند بخاری اور مسلم کی پایہ کی نہیں لیکن ان کا کثرت طرق سے آنا ان کی صحت کے پہلو کو واضح کرتا ہے۔۔جس کے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ امت کے اندر مختلف زمانوں میں جو بگاڑ اور فساد پیدا ہو گا اس کو دور کرنے اور امت مسلمہ کی اصلاح کا کام بعض ایسے لوگوں کے سپر د ہوگا جو میرے ہمنام ہوں گے۔آپ کے دو نام زیادہ مشہور ہیں۔محمد اور احمد چنانچه بمطابق روایت بالا محمد نام کے متعدد مہدی اور مصلح گزرے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں ہدا یت وارشاد کا خاص فریضہ سر انجام دیا اور اپنے منصب کے لحاظ سے انہوں نے مہدی ہونے کا دعوی کیا یا ان کے کام کے لحاظ سے ان کے مریدوں نے انہیں مہدی قرار دیا اس سلسلہ میں امام محمد بن حنفیہ اور + امام محمد باقر کا نام پہلے گزر چکا ہے۔شیعہ اثنا عشریہ امام محمد بن الحسن العسکری کو مہدی منتظر " ” مسند احمد بن حنبل جلد صفحه ۳۷۶، ۳۷۷ مطبوعہ بیروت صاحب کتاب البیان نے اکتیس سے زائد طرق گنوائے ہیں۔البیان فی اخبار صاحب الزمان صفحه ۹۴ تا ۹۷)