تاریخ افکار اسلامی — Page 342
تاریخ افکا را سلامی کے لیے لفظ گیف ہی استعمال ہوگا اور جب کوئی خوبی حد کو پہنچ جائے تو اُس کے لیے بھی لفظ کیف ہی استعمال ہوگا لیکن دوسری آیت جو الطور کی ہے اُس نے اس مضمون کو اور بھی کھول دیا۔بیان فرمایا۔فويل يَوْمَيذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ہلاکت ہے اس دن اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے تکذیب کی راہ اختیار کی ہے۔ان آیات پر غور کرتے ہوئے انسان کا ذہن اس طرف بھی منتقل ہوتا ہے کہ سارے قرآن میں کہیں مومنین کے لیے ہلاکت کا ذکر نہیں آیا خواہ وہ غلط ہی ایمان لانے والے ہوں۔ڈرایا گیا ہے مکڈ مین کو اُن کی تکذیب سے اور کہیں یہ نہیں فرمایا گیا کہ دیکھو غلطی سے فلاں لوگ ایمان لے آئے تھے ہم نے اُن کو ہلاک کر دیا ہے۔غلطی سے وہ لوگ ایک جھوٹے کو سچا سمجھ بیٹھے تھے ہم نے اُن کو تباہ کر دیا ہے۔سارے قرآن میں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس میں خدا تعالیٰ نے اس صورت حال سے متنبہ فرمایا ہو کہ دیکھو فلاں قوم نے غلطی سے ایک ایسے شخص کو قبول کر لیا تھا جس کو میں + نے نہیں بھیجا تھا اور دیکھو وہ کس طرح ہلاک کئے گئے اور کس طرح تباہ کئے گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی شان ہے ایمان لانے والا اگر بچے دل سے ایمان لاتا ہے تو اس کے لیے کوئی خوف نہیں اور کوئی ہلاکت نہیں لیکن تکذیب کرنے والے کے لیے ہلاکتیں ہیں اور متعدد بار ان ہلاکتوں کا قرآنِ کریم میں اس طرح کھول کھول کر ذکر فر مایا گیا ہے کہ کسی پر یہ مضمون مشتبہ نہیں رہنا چاہئے لے۔ے خطبات طاہر جلد۷ صفحه ۵۵۳۲۵۴۷ خطبه بیان فرموده مورخه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء