تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 295 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 295

تاریخ افکا را سلامی ۲۹۵ واصل کو معبد جہنی اور خیلان دمشقی کے بعد معتزلہ کا تیسرا بڑا قائد تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کے مخصوص نظریات یہ تھے: 1 - امت اسلامیہ کا جو شخص گناہ اور نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے وہ نہ مومن ہے اور نہ کافر بلکہ وہ فاسق ہے۔اگر اُس نے مرنے سے پہلے تو بہ نہ کر لی تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا جبکہ خوارج میں سے بعض کے نزدیک ایسا شخص مشرک ہے اور بعض اُسے کافر قرار دیتے ہیں اور دائی جہنمی مانتے ہیں۔اہل السنت والجماعت کے نزدیک ایسا شخص مومن اور مسلمان تو ہے لیکن گنہگار اور فاسق ہے۔اللہ تعالی چاہے تو اُسے سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے نیز ایسا شخص اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر دوزخ سے نکل آئے گا اور جنت میں جائے گا۔واصل کا یہ نظریہ بھی تھا کہ حضرت علی اوران کے حامی بمقابلہ حضرت طلحہ و حضرت زبیر و حضرت عائشہ اور ان کے ساتھی ان دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ لَا عَلَى التَّعْبِينِ فاسق ہے۔انى احمد الفَرِيقَيْنِ فَاسِقٌ بِلا تعیین۔اس لئے اگر دونوں گروہوں میں سے ایک ایک آدمی مل کر کسی واقعہ کے بارہ میں شہادت دیں تو قاضی کو چاہیے کہ و ہ ان کی شہادت رو کردے کیونکہ ان میں ایک لازماً فاسق ہے اور فاسق کی شہادت قابلِ رو ہے اور اگر ایک ہی گروہ کے دو آدمی مل کر گواہی دیں تو ان کی گواہی مقبول ہوگی کیونکہ یہ یقین نہیں کہ یہی لازما فاسق ہیں لیے الْهُذَلِيَّهُ اور اس کے نظریات يه فرقـابو الهذيل محمد بن الهذيل کا پیرو تھا۔ابو اله میل کا لقب علاف تھا۔یہ قبیلہ عبد القیس کا مولی تھا اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے زیادہ تر موالی یعنی فارسی نو مسلموں نے ہی مسلمانوں میں مختلف قسم کی بدعتوں کو رواج دیا ہے فَكَذَلِكَ أَبُو الهُذَيْلِ جَرَى عَلَى مِنْهَاجِ أَبْنَاءِ السَّبَايَا لِظُهُورِ أَكْثَرِ الْبِدَعِ مِنْهُمْ - ابو الهذيل معتزلی کے مخصوص نظریات یہ تھے۔اللہ تعالیٰ کے سارے مقدورات یعنی ساری کائنات بشمول جنت و دوزخ فنا ہو جائیں گے اور L الفرق بين الفرق صفحه ۸۳ الفرق بين الفرق صفحه ۸۴