تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 281 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 281

تاریخ افکارا سلامی PAI حکومت بخشے اور نبوت کے مقام پر فائزہ کرے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ ایسا مقرب انسان تو یہ اعلان کرتا ہے کہ اے لوگو ! تم اللہ والے بن جاؤ کیونکہ تم کتاب شریعت کو جانتے ہو اور اُسے پڑھتے ہو وہ کبھی بھی تمہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو کیا وہ تمہیں اس گھر کی تبلیغ کر سکتا ہے جبکہ تم سچے مسلمان ہو۔بنالو حضرت امام جعفر صادق فرمایا کرتے تھے کہ غلو پسند لوگوں کے پاس بیٹھنا، اُن سے میل ملاپ رکھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا ، اُن سے مصافحہ کرنا سب قسم کے سوشل تعلقات چھوڑ دو۔ان سے نکاح شادی کی اجازت نہیں اور نہ تم آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہو۔باطنی تحریکات کے خطرناک اثرات حضرت عثمان کی شہادت کے بعد اہل بیت کی محبت و موالات کا دعوی لے کر جو شیعہ تحریک اٹھی تھی وہ کئی مراحل میں سے گزرتی اور مختلف انداز کی باطنی تحریکات کی شکل اختیار کرتی ہوئی اقصائے مغرب سے لے کر ہندوستان اور ترکستان کے کناروں تک ایک لمبا عرصہ ذہنی انتشار اور سیاسی خلفشار کا باعث بنی رہی۔خصوصا چوتھی اور پانچویں صدی میں تو ان باطنی تحریکات نے ایک خوفناک فتنہ کی صورت اختیار کر لی تھی جس کی وجہ سے ممالک اسلامیہ میں سیاسی استحکام مفقود ہو کر رہ گیا اسی قسم کی تحریکات کا یہ نتیجہ تھا کہ فلسطین اور شام کے علاقوں میں صلیبیوں کو کامیابی حاصل ہوئی اور مشرق میں خوارزم کی حکومت تا تاری یلغار کا شکا ریتی اور بعد میں خلافت عباسیہ کے خاتمہ اور بغداد کی تباہی پر منتج ہوئی۔مغلوں اور عثمانی ترکوں کے زمانہ میں یہ باطنی تحریکات کسی حد تک دب گئیں تھیں لیکن مغربی استعمار کے بعد پھر سے ان تحریکات میں جان پڑ گئی اور ان کے پھلنے پھولنے کے خاصے اسباب سامنے آ گئے۔بہائیت بھی باطنی تحریک کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔دوسری طرف ایران ، شام اور لبنان اور ایک حد تک عراق اور پاکستان بھی انہی فتنوں کی زد میں ہے۔عرب کے دوسرے علاقے بھی ان فتنوں کے مضرات سے محفوظ نہیں۔باطنی تحریکات نے کیا کیا شکلیں اختیار کیں اور ان سے امت مسلمہ کو کس قسم کے دینی، تمدنی اور سیاسی اوران کوکس اور نقصان پہنچے یہ ایک لیمی داستان ہے۔علامہ بغدادی ان تحریکات کی تباہ کاریوں کی طرف اشارہ کرتے