تاریخ افکار اسلامی — Page 255
تاریخ افکا را سلامی ۲۵۵ اس بنا پر رومی بازنطینیوں کی روک تھام ضروری تھی۔پھر اس علاقہ میں قرامطہ کا بھی زور تھا جس کا تو ڑنا فاطمیوں کی پالیسی کا ایک حصہ تھا۔۳۶۵ ھ میں المعز جب فوت ہوا تو العزیز اس کا قا ئمقام مقرر ہوا۔اس کے زمانہ میں جامع الازہر کی بنیا د وسیع المقاصد تعلیمی ادارہ کے طور پر رکھی گئی ہے العزیز بڑا اوسیع المعلومات دور بین خلیفہ تھا بہت کی زبانیں جانتا تھا۔اس کے زمانہ میں ایشیائے کو چک سے لے کر بحر اوقیانوس کے مغربی کنارے تک دولت فاطمیہ کا جھنڈا لہرانا تھا۔۳۸۶ھ میں العزیز نے وفات پائی۔اُس نے قاضی محمد بن النعمان المغربی اور کنامہ کے سردارا بوالحسن بن عمار کے مشورہ سے اپنے بیٹے کواپنا جانشین مقر رکیا جوالی کم بامر الله کے لقب سے مشہور ہے۔الحاکم بامر اللہ سے پہلے فاطمی خلفا ء عام شرعی احکام میں قریباً اثناعشری شیعوں سے مطابقت رکھتے تھے۔جمعہ اور عیدین اور عبادت کی دوسری تقریبات میں خلفاء برابر شریک ہوتے۔البتہ صحابہ کو بُرا بھلا کہتے اور ست صحابہ کے طریق کو فروغ دینے میں دوسرے غلو پسند شیعہ فرقوں سے کسی طرح کم نہ تھے۔الحاکم بامر اللہ کو کتامہ کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے سردار احسن بن عمار کو وزیر مقرر کیا جائے چنانچہ الحاکم کو جھکنا پڑا اور کنامہ کا مطالبہ تسلیم کر لیا لیکن بد نظمی بڑھ گئی۔اثر ابن عمار نے وزارت چھوڑ دی۔اُس کی جگہ بہ جوان آیا لیکن کچھ مدت کے بعد حاکم نے اسے بھی قتل کرا دیا۔حاکم متلون مزاج ، علو پسند دیوانی ذہنیت کا خلیفہ تھا۔پہلے اس نے سلیوں اور زمینیوں کو سخت تنگ کیا اور شیعیت کے فروغ کی کوشش کی۔اس کا یہ دور ۳۹۰ھ سے ۳۹۸ ھ تک ہے۔اُس نے یہود اور نصاریٰ کے بارہ میں حکم دیا کہ وہ الگ طرز کا لباس پہنیں جس سے پتہ چلے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔گرجے گرا دیئے اور ان کے اندر کے قیمتی سامان کو فروخت کرا دیا۔ایک طرف اس کا یہ تشدد تھا تو دوسری طرف اس نے کئی عیسائیوں کو بڑے اہم عہدے دے رکھے تھے جنہوں نے عام مسلمانوں کو بڑا تنگ کئے رکھا۔تے ۳۹۸ھ سے ۲۰۱ ھ تک عام مسلمانوں کے بارہ میں اُس کا رویہ نرم تھا لیکن اس دور میں اُس کے لے شروع میں جامع الازہر کی بنیاد ۳۵۹ ھ میں فاطمی قائد جوہر کے ہاتھوں رکھی گئی لیکن اس وقت یہ صرف شیعہ علوم کی تدریس کے لئے مختص تھی۔(تاریخ الدولة الفاطمية صفحه ۳۷۷) قد أوغر كثرة تقليد النصارى للوزارة صدور المسلمين عليهم (تاريخ الدولة الفاطميه صفحه ١٦٦)