تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 249 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 249

تاریخ افکا را سلامی ۲۴۹ ۴۔اَلْاِمَامُ الْمُسْتَقَر۔یہ بعد میں آنے والے امام کی تخصیص اور تعیین کا اختیار رکھتا ہے۔لے -۵ - الإمامُ المُستَودَع۔یہ امام مستقر کی نیابت میں کام کرتا ہے۔اسے نا ئب الامام بھی کہتے ہیں اس لئے آئندہ کے امام کی تخصیص اور تعین کے اختیارات اُسے حاصل نہیں ہوتے۔۔امامت کے دو سات ہیں۔اسلام کی صورت میں چھٹے دور کا آغاز انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتا ہے جو الناطقی ہیں آپ کے بعد علی اس دور کے پہلے امام ہیں جو ا لا مَامُ الاساس “ ہیں پھر ان کے بعد الأئِمَّةُ القَائِمِین ہیں جو حسن ،حسین ، زین العابدین، محمد باقر جعفر صادق اور اسمعیل ہیں۔یہاں پر سات کا دور ختم ہو جاتا ہے اور محمد بن اسمعیل سے اگلے یعنی ساتویں دور کا آغاز ہوتا ہے اس بنا پر محمد بن اسماعیل ناسخ شریعت محمد یہ بھی ہیں ہے سات دور کے اس نظریہ کو اپنانے کی وجہ سے اسماعیلیہ کو سبعیہ بھی کہا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آسمان سات ہیں، کواکب سات ہیں، زمینیں سات ہیں، ہلتے کے دن سات ہیں۔اسی منوال پر ائمہ کے دو ر بھی سات ہیں اور ہر دور میں ائمہ بھی سات ہوتے ہیں کے ائمہ جس طینت یعنی مٹی سے پیدا ہوتے ہیں وہ بشری طینت اور مٹی سے اعلیٰ اور برتر ہے۔اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے چنید داور مخلوقات کے لیے حجت ہوتے ہیں۔- امام زمانہ کی مدد کے لیے حجج، مأذونون اور اجنحہ ہوتے ہیں۔حجج جن کو بعض اوقات دُعا بھی کہا جاتا ہے ہمیشہ بارہ رہتے ہیں جن میں سے چار امام کے ساتھ رہتے ہیں۔مأذونون اور اجنحه امام اور دُعاۃ کے درمیان پیغامبر او ررابطہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ل الإمامة عندهم اما بالوراثة من الوالد إلى الولد و اما بالنص عليه من الامام الذي سبقة (نفس المصدر) ان محمد بن اسمعيل القائم انى لِيُفَسّر القرآن باطنيا اني بالتأويل (تاريخ الفرق الاسلامية بحواله نشأة الفكر الفلسفي صفحه ۴۰۳) النطقاء سبعة هم آدم و نوح وابراهيم وموسى وعيسى ومحمد والقائم۔هم من اصحاب الشرائع ثم ادخلوا بين الناطق السادس اى محمد صلى الله عليه وآله وسلم وبين القائم السابع اى محمد بن اسماعيل ائمة ظاهرين هم على والحسن والحسين وعلى ومحمد وجعفر واسماعيل تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ١٩٠ ) المعرفة عن النظريات البرية الاسماعيلية مقتصرة على طبقة خاصة من الدعاة - (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۹۴)