تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 237 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 237

تاریخ افکا را سلامی + ۲۳۷ بنو عباس اور باطنی تحریکات بنو امیہ کے خلاف جو خفیہ تحریک علویوں اور رعباسیوں کی طرف سے چلائی گئی تھی وہ بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ اور بنو عباس کے اقتدار پر منتج ہوئی۔اس خفیہ تحریک میں بالعموم عربوں سے دشمنی کا عنصر غالب تھا۔اس تحریک کے ذریعہ مصری اور یمنی عربوں میں پھوٹ ڈلوائی گئی اور پرانی عصبیت کو زندہ کیا گیا۔خراسانی عناصر کو آگے کیا گیا جس کی وجہ سے بنو امیہ یا بالفاظ دیگر عرب شکست کھا گئے اور تجھی عناصر کا اثر ورسوخ بڑھ گیا۔بہر حال اس کامیابی سے نہ علوی خوش تھے اور نہ وہ عناصر جن کی تو قعات پوری نہ ہوئی تھیں۔اس لئے خفیہ تحریکات کا خاتمہ نہ ہوا بلکہ ان کا رخ بنو عباس کی طرف پھر گیا۔چنانچہ ان عناصر میں سب سے زیادہ موثر فوجی انداز کی مخالفت ابو مسلم خراسانی نے کی تھی جس کے حامیوں کا بنو عباس کی کامیابی میں بڑا مؤثر کردار تھا۔ابو مسلم کا خیال تھا کہ اس کی حمایت کی وجہ سے بنو عباس اس کے زیر اثر رہیں گے اور اس طرح خراسانی عناصر بڑی آسانی سے اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کر سکیں گے۔ابو مسلم خراسانی کا اسلام بھی پختہ نہ تھا۔بہت سے پرانے آبائی عقائد کا اس پر گہرا اثر تھا۔وہ تاریخ کا قائل تھا۔اور بھی بہت سے خلاف اسلام عقائد وہ رکھتا تھا۔اس نے اپنے حامیوں میں اس تصور کا بھی اظہار کیا تھا کہ الحق الإلی یعنی خلافت الہیہ کے زیادہ مقدار عباس تھے۔یہ الہی قوت عباس سے ان کی اولاد میں منتقل ہوئی اور چلتے چلتے بنو عباس کے پہلے خلیفہ ابو العباس عبدالله السفاح میں جاگزیں ہوگئی۔اُن کے بعد خلافت کا یہ منصب الہی اشارہ کے تحت ابو مسلم خراسانی کے سپر د ہوا۔بنو عباس کے دوسرے خلیفہ ابو جعفر منصور نے جب دیکھا کہ ابو مسلم خراسانی اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے اور اس کے حامیوں کے تیور بدلے ہوئے ہیں تو اس نے ایک سازش کے تحت ابو مسلم خراسانی کو قتل کرا دیا۔یہ ۱۳۷ھ کا واقعہ ہے۔سے اس قتل کی وجہ سے ابو مسلم کے بعض حامی بھر گئے اور خراسان کے ل والمنصور اوّل خليفة استعمل مواليه وغِلْمَانَة فى اعماله وقدمهم على العرب الاسلام والحضارة العربية جلد ۲ صفحه ۳۱۹ و ۴۲۴ هو عبد الرحمن بن مسلم المشهور با بی مسلم الخراسانی فرق) الشيعة صفحه ۴۷ حاشيه) فرق الشيعه صفحه ۴۷