تاریخ افکار اسلامی — Page 176
تاریخ افکار را سلامی 121 ان حالات میں امام بن تیمیہ نے دینی بگاڑ کو سنوارنے کی کوشش کی۔بدعات اور رسوم کے خلاف جہاد کیا۔باطنی تو ہمات کے ازالہ کی کوشش کی لیکن حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ آپ کی کوششیں کما حقہ بار آور نہ ہو سکیں۔اس ناکامی کی ایک وجہ آپ کی طبیعت کی تیزی بھی تھی۔لوگوں کے بزرگوں پر آپ کی تنقید بڑی سخت ہوتی تھی۔اس مدت کی وجہ سے آپ کی کوششوں کا اثر صرف اہل علم طبقہ تک محدود رہا تھا۔امام ابن تیمیہ کا مسلک عقائکہ میں آپ سلفی تھے تاویل اور مجاز کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔دینی مسائل میں آپ ظاہر مفہوم اور کوتر بیچ دیتے تاویل سے دور بھاگئے مثلاً استَوى عَلَى الْعَرْشِ کے بارہ میں کہتے اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہیں بیٹھنے کی کیفیت نا معلوم ہے۔کرسی کا وجود ہے لیکن اس کی کیفیت مجہول ہے۔اللہ تعالیٰ کا چہرہ اور ہاتھ ہیں، لیکن کیفیت سے ہم بے خبر ہیں۔اللہ تعالی کی رویت ممکن ہے کیونکہ حد بیث میں آیا ہے اللہ تعالی آسمان اول پر نزول اجلال فرماتے ہیں۔غرضیکہ اس قسم کے مسائل کے بارہ میں وہ کسی تاویل کے قائل نہ تھے۔صوفیاء کے اکثر نظریات کو وہ تو ہمات ، شطحیات اور خلاف شریعت سمجھتے تھے۔صوفیاء کے نظر یہ اتحاد واباحت اور ان کے خوارق یعنی شعبدہ بازی کو کفر قرار دیتے تھے۔قبر پرستی کے سخت خلاف تھے اس تشدد نے ان کو اس حد تک پہنچا دیا کہ زیارت قبور کے جواز کا بھی انکار کر دیا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کی زیارت کے لئے جانے کو بھی جائز نہ مجھتے تھے گویا حضور کے فرمان کی محبت نے جذباتی محبت پر غلبہ پالیا تھا۔وہ اس حدیث سے استدلال کیا کرتے تھے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہود اور نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا ہے ایک اور حدیث بھی آپ کے پیش نظر تھی وہ یہ کہ حضرت عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کی طرف ایک شخص کو آتے جاتے دیکھا تو فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری قبر کو عید اور خانقاہ نہ بناؤ جہاں کہیں بھی تم ہو