تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 168 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 168

تاریخ افکا را سلامی ۱۶۸ اور وہ مرجاتا ہے تو نتیجہ اگر چہ خیر ہے لیکن نیت بد ہے اس لئے بندوق چلانے والا اللہ تعالیٰ کے ہاں گنہگار ہو گا اور دنیا میں بھی مناسب گرفت ہو سکتی ہے۔ایک شخص کسی دوسرے کو مکان میں بند کر دیتا ہے۔وہاں وہ بُھو کا پیاسا مر جاتا ہے تو امام احمد کے نز دیک بندش کے مرتکب کو یہ ست ادا کرنی ہوگی۔رقص و سرود کے لئے کسی کو مکان کرایہ پر دینا بھی اسی اصول کے تحت ممنوع ہے۔حنبلیوں نے اصحاب کے اصول سے بھی بہت کام لیا ہے۔اسی اصول کے تحت اُن کا مسلک یہ ہے کہ شک یقین کو زائل نہیں کر سکتا۔اصلا پانی طاہر ہے جب تک نجاست کے پڑنے کا یقین نہ ہو پانی پاک سمجھا جائے گا اور شبہ کا امکان قابل رڈ ہو گا۔امام احمد کے مسلک کا فروغ امام احمد کے مسلک کو ان کی کتابوں کے علاوہ اُن کے لائق شاگردوں نے مقبول بنایا۔امام صاحب کے لڑکے علامہ عبداللہ نے ان کی مشہور زمانہ کتاب المسند “ کو متعارف کرایا۔اسی طرح ان کے لائق شاگر دا بو بکر الاشرم ، عبد الملک المیمونی، ابو بکر المروزی، ابراہیم بن اسحاق ابوبکر الحربی اور ابو بکر الخلال اور دوسرے قابل شاگردوں نے ان کے مذہب کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کئے رکھا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم جیسے فضلائے زمانہ اسی مسلک سے وابستہ تھے۔حنبلی ہر زمانہ میں اجتہاد کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس کے دروازہ کو گھلا مانتے ہیں۔اس وجہ سے فکر کی وسعت تو میسر آئی لیکن اختلافات کا انبار لگ گیا۔ہر نئے مجتہد نے کسی نہ کسی مسئلہ میں اپنا الگ مسلک اختیار کیا اس پر بند لگانے کی کوئی صورت سامنے نہ آسکی۔حصیلی مسلک کے علماء علمی میدان میں بڑے سر بر آوردہ تھے لیکن اس کے باوجود وہ حنبلی مسلک کو مقبول عام نہ بنا سکے۔اس کی کئی وجو ہات تھیں مثلاً : دوسرے فقہی مسالک کو استحکام کے لحاظ سے سبقت حاصل تھی۔حنبلی مسلک قرون ماضیہ میں کے ان الحكم الثابت يستمر حتى يوجد دليل قطعي بغيره (محاضرات صفحه ۳۶۵)