تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 167 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 167

تاریخ افکا را سلامی 192 آپ حجت مانتے تھے تابعین کی آراء کا بھی لحاظ رکھتے تھے۔اس کے بعد بامر مجبوری شاذ طور پر قیاس۔مصالح مرسلہ اور استصحاب وغیرہ سے بھی کام لے لیتے تھے۔صحابہ کے اجماع کے علا وہ وہ کسی اور اجماع کی شرعی حیثیت کے قائل نہ تھے کیونکہ اُن کی رائے میں اجتماع کا دھوئی درست نہیں کیونکہ بہت ممکن ہے کہ کوئی مخالف ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو سکا ہو لے حنبلیوں کے نز دیک نص کی عدم موجودگی کی صورت میں قیاس سے کام لینا ضروری ہے لیکن ان کے ہاں حنفیوں اور شافعیوں کے مقابلہ میں قیاس کا مفہوم زیادہ وسیع ہے اس میں استحسان، مصالح مرسلہ، ذرائع اور استصحاب سبھی وجود استنباط شامل ہیں مثلا حنفیوں کے نزدیک بیع سلم کا جواز غیر قیاس ہے کیونکہ بیاض لا تَبعُ مَا لَيْسَ عِندَكَ کے خلاف ہے اور بیع معلوم کے حکم میں ہے لیکن تھیلیوں کے نزدیک اس بیچ کا جواز قیاسی ہے کیونکہ پبلک مصلحت اور ضرورت اور غرف کی بنا پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔ہے مصالح امت کی بنا پر ہی امام احمد اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ شر پسند اور فسادی عناصر کو شہر بدر کیا جا سکتا ہے یا ضرورت مندوں کو لوگوں کے گھروں میں زیر دستی ٹھہرایا جا سکتا ہے جبکہ کوئی اور صورت ممکن نہ ہو۔یہی حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی ضروری پیشہ کا آدمی نہ مل رہا ہو تو کسی کو یہ پیشہ سیکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔سید ذرائع سے کام لینے میں بھی میلی کسی سے پیچھے نہیں وہ اُن تمام ذرائع کے ممنوع ہونے کے قائل ہیں جو مُفضى إلى الفساد ہو سکتے ہیں۔سعدی بیماری کے مریضوں کو پبلک مقامات میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔فساد کے دنوں میں پبلک کے پاس اسلحہ فروخت کرنے کو منع کیا جا سکتا ہے۔تلقی رُشحبان بھی اسی اصول کی بنا پر منع ہے اس سلسلہ میں نیت اور نتیجہ دونوں اپنی اپنی جگہ کام کرتے ہیں۔ایک شخص کسی دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے بندوق چلاتا ہے لیکن کوئی اُس شخص کو لگنے کی بجائے سانپ کو جالگتی ہے ل من ادعى الاجتماع فهو كاذب لعل الناس اختلفوا ولم ينبه اليه فليقل لا نعلم مخالفا له (محاضرات صفحه ۳۵۹) لان الحكمة في وجود المبيع ثابتة فيه و هو منع الجهالة والغرر و عرف الناس - (محاضرات صفحه ۳۶۱ ملخصا)