تاریخ افکار اسلامی — Page 42
تاریخ افکا را سلامی ۴۲ کا امام اور لوگوں کا مقبول استاد ہو گا اور دوسرے اس کے پیچھے چلنے والے ہوں گے۔لے حضرت عبداللہ بن عباس حضرت علی کی طرف سے بصرہ کے والی تھے جب بھی امام الجزیرہ میمون بن مہران کے بھائی محدث ابو العالیہ رفیع بن مہران اُن سے ملنے آتے تو وہ ان کو اپنے پاس مسند پر بٹھاتے جبکہ سرداران عرب فرش پر بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔آپ فرماتے - هكلما العلم يَزيدُ الشريف شرفات حضرت حسن بصری اور حضرت محمد بن سیرین بھی موالی میں سے تھے اور اپنے علم وزہد کی وجہ سے سید العلماء سمجھے جاتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مبارک کے والد مولی اور مر د کے رہنے والے تھے۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مبارک رقہ آئے۔ہارون الرشید بھی ان دنوں وہاں تھا۔حضرت عبداللہ کے استقبال کے لئے ایک دنیا ٹوٹ پڑی۔اتنی بھیڑ تھی کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ہارون کی بیوی نے یہ دیکھ کر کہا خدا کی قسم ! استقبال اسے کہتے ہیں حکومت اس کا نام ہے نہ کہ ہارون الرشید کی حکومت جس کے استقبال کے لئے لوگوں کو پولیس اور افسران حکومت کی مدد سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔تبع تابعین کے دور میں علوم دینیہ کی تدوین کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔خاص طور پر حدیث اور فقہ کی تدوین کا آغاز اسی دور میں ہوا اور اسی زمانہ میں فقہ کے مشہور ائمہ اور ان کے قابل شاگردوں نے تہذیب و تمدن کے استحکام کے لئے قانونی نظام کو مرتب کرنے کی طرف توجہ مبذول کی اور سلسلہ تصانیف کی ابتدا ہوئی۔معاشرتی اور عائلی مسائل کے لئے احکام شریعت کو واضح شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ھے ا مقدمة ابن الصلاح صفحه 199 النوع الرابع والستون، معرفة الموالى من الرواة والعلماء، معرفة علوم الحديث للحاكم صفحه ۱۹۸ تذكرة الحفاظ للذهبي صفحه ۱۲۰ كَانَ أَبُو عَبْدِ اللهِ تَرَكِيَّا وَ أُمُّهُ خَوَارزَميَّة ( ابو حنيفة صفحه ۱۱۵) سیر اعلام النبلاء جلد ۸ صفحه ۳۸۷- تاریخ بغداد للخطيب جلده ۱ صفحه ۱۵۶ ه بَدَأَ تَدْوِينُ الْفِقْهِ عَلَى نِطَاقٍ وَاسِعِ بِعَمَلِ أَبِي حَنِيفَة وَ عَلَى نِطَاقٍ ضَيْقٍ فِي مُوَطًا مَالِكِ فِي النَّصْفِ الْأَوَّلِ مِنَ الْقَرْنِ الثاني الامام الشافعي صفحه (۹۲)