تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 381 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 381

تاریخ افکا را سلامی PAI مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کی تشریح حدیث شریف میں مُنذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کے جو الفاظ آتے ہیں اس کی تشریح مناسب معلوم ہوتی ہے۔بعض لوگ نماد نہی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ۱۸۹۴ء سے پہلے رمضان کے مہینے میں ۱۳ اور ۲۸ تاریخوں میں گرہن بھی نہیں ہوئے تھے۔یہ تصور واقعات کے خلاف ہے۔خاکسار نے جو تحقیق اپنے دوست Dr۔Goswemi Mohar Ballebl کے ساتھ کی ہے اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ کم و بیش ہر ۲۲ سال میں ایک سال یا مسلسل دو سال ایسے آتے ہیں جبکہ چاند اور سورج دونوں کو رمضان کے مہینے میں گرہن لگتے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک ہی مقام سے دونوں گرہن نظر آئیں۔تفصیل کے لئے دیکھیں ریویو آف ریلیجنز جون ۱۹۹۲ء کسی معین جگہ سے معین تاریخوں میں دونوں گرہنوں کا نظر آنا اس واقعہ کو کافی نایاب بنا دیتا ہے۔ایسا صدیوں میں ایک دفعہ ہوتا ہے۔ہماری تحقیق کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے لے کر اب تک ۱۰۹ دفعہ سورج گرہن اور چاند گرہن دونوں رمضان کے مہینہ میں ہوئے ہیں لیکن ان میں سے صرف ۲ یا ۳ دفعہ ہی ایسا ہوا کہ ۱۳؍ رمضان اور ۲۸ / رمضان کو یہ گرہن قادیان سے نظر آسکتے تھے۔مزید ایمان افروز بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے لے کر اب تک صرف ۱۸۹۴ء (۱۳۱۱ھ) ہی ایک ایسا سال تھا جب کہ نہ صرف ۱۳ را اور ۲۸ رمضان کو قادیان پر گرہن ہوئے بلکہ اول ليلة کی پیشگوئی کے الفاظ اس طرح بھی پورے ہوئے کہ چاند گرہن قادیان میں رات کے شروع ہوتے ہی ہو گیا۔سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ - مند خلق السَّمَوَاتِ وَ الأرْضِ کے الفاظ سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان تاریخوں میں گرہن پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ مراد ہے کہ ایسے نشان کبھی کسی مدعی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے تھے۔لہذا مدعی کا موجود ہونا ضروری ہے۔دار قطنی کے الفاظاِنَّ لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ میں لام افادیت کا ہے جس سے ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام ان دونوں نشانوں سے فائدہ اٹھا ئیں گے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں۔