تاریخ افکار اسلامی — Page 380
تاریخ افکا را سلامی ٣٨٠ ۱۳۱۲ ھ / ۱۸۹۵ ء میں دوسری دفعہ رمضان میں گرہن ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ دو دفعہ رمضان میں گرہن ہوگا۔"إِنَّ الشَّمْسَ تَنكَيف مَرَّتَيْنِ فِي رَمَضَانَ » چنانچہ اگلے سال ۱۸۹۵ء میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوئے۔یہ گرہن قادیان سے نظر نہیں آئے۔انگلستان اور امریکہ کے بعض علاقوں سے نظر آسکتے تھے۔چاند گرہن 11 / مارچ ۱۸۹۵ء میں ہوا اور سورج گرہن ۲۶ مارچ ۱۸۹۵ء کو ہوا۔ان گرہنوں کے وقت بھی قادیان میں رمضان کی تاریخیں ۱۳ اور ۲۸ تھیں۔مقام کے بدلنے سے تاریخیں بدل سکتی ہیں۔اس دفعہ کا سورج گرہن نمایاں قسم کا نہیں تھا۔لہذا پروفیسر Van Oppolzer نے اپنی کتاب میں اس کے لئے map نہیں دیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنی کتاب همیقة الوحی میں جو ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی ان گرہنوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بیجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویست کا نشان قرار دے کر صد با اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے۔اس لئے یہ نشان آسمانی میرے لئے معین ہوا۔دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارہ میں خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے کہ جو یہ نشان ظاہر ہو لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی سے ،، مختصر مدن کره قرطبی صفحه ۱۴۸ حقیقة الوحی - روحانی جلد ۲۲ صفحه ۲۰۲