تاریخ افکار اسلامی — Page 367
تاریخ افکارا سلامی کے مظہر ہونے کی وجہ سے المہدی " کا نام دیا گیا ہے اور اس وجہ سے کہ اُس کے ذریعہ صلیب کے غلبہ کا استیصال ہوگا۔اُسے مثیل مسیح اور مظہر عیسی بن مریم کا لقب دیا گیا ہے کیونکہ وہ عیسی بن مریم جو آج سے دو ہزار سال پہلے گزر چکے ہیں اور اُسی طرح آسمان پر جاچکے ہیں جس طرح دوسرے انبیاء آسمان پر گئے اور جنہیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر مختلف آسمانوں کا مکین دیکھا وہ دوبارہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے کیونکہ یہ سنت الہی کے خلاف ہے۔اس لئے کہ جو طبعی عمر پا کر فوت ہوا وہ واپس اس دنیا میں نہ آیا اور حسب آیات قرآن کریم عیسی بن مریم وفات پاچکے ہیں۔اس لئے وہ واپس اس دنیا میں نہیں آسکتے اور جیسا کہ سطور بالا میں اس حقیقت کو کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ کسی فوت شدہ بزرگ یا نبی کی دوبارہ آنے کے معنے یہ لیا ہوا کرتے ہیں کہ اس کا مثیل آئے گا جو اس نبی کی برکات کا حامل ہو گا اس کی سنت کا احیاء کرے گا۔اخلاق میں اُس کے مشابہ ہوگا اور اُن مقاصد کو پورا کرے گا جو اس کی بعثت کا باعث تھے۔اس موعود دماً مور کو صحیح مسلم کے حدیث میں چار بار نبی اللہ کہا گیا ہے۔یہ ایک لمبی حدیث ہے جس کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں۔يُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ۔فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ يَقيطُ نَبِيُّ اللهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيَرْغَبُ نَبيُّ اللهِ عِيسَى وَ أَصْحَابه۔جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ مرتبہ اور کردار کے لحاظ سے امت محمدیہ کے بزرگ افراد کو اسی طرح مقام نبوت حاصل ہے جیسا کہ سابقہ انبیاء کو حاصل تھا ایک ذرہ بھی فرق نہیں بلکہ خیر الرسل کی امت ہونے کی وجہ سے بعض افراد امت کا درجہ ان سابقہ انبیاء سے کہیں بڑھ جاتا ہے تا ہم امت کے ان افراد کو نبی" کے نام کی بجائے دوسرے روحانی نام ملے ہیں۔جیسے خلفا ء، اولیا و مجد دین اور مہد تین لیکن ایک عظیم فردامت کو حسب حدیث مسلم نبی کے نام سے بھی پکارا گیا ہے تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ امت اس مقام بلند سے محروم نہیں لیکن خاتم النبیین کے مقام کی عظمت شان 1 سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۶ ۵ میں یہ تصریح ہے کہ عیسی بن مریم کی وفات پہلے ہوگی اور پھر حسب آیت النساء ۱۵۹ ان کا رفع ہوگا اور سورۃ المائدہ ۱۱۷ میں یہ وضاحت ہے کہ عیسی بن مریم وفات پاچکے ہیں۔اُن کے علاوہ بھی متعدد آیات اور احادیث ہیں جو عیسی بن مریم کی وفات کو ثابت کرتی ہیں۔مسلم كتاب الفتن باب ذكر الدجال۔رياض الصالحين للنووى شارح صحيح مسلم كتاب المنثورات والملح