تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 325 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 325

تاریخ افکارا سلامی ۳۲۵ مسلمانوں کی سیاسی بحالی سے متعلق تحریکات جن استعماری طاقتوں کے ہاتھوں عالمگیر مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا ان کی دو قسمیں ہیں۔تغلب او ر آمریت پسند طبیعت رکھنے والی استعماری طاقتیں جیسے روسی طاقت یا بعض اور آمریت پسند حکومتیں، قانون پسند طبیعت رکھنے والی استعماری طاقتیں جیسے بر طانیہ، فرانس اور امریکہ وغیرہ۔پہلی قسم کی طاقت نے جن اسلامی حصوں پر تسلط جمایا۔جیسے روسی ترکستان، منگولیا اور چین کے بعض مسلم علاقے ، وہاں مذہبی آزادی کی کوئی تحریک آج تک پنپ نہیں سکی اس لئے ان علاقوں میں کسی مسلم قیادت کے ابھرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی اصلاح امت کی کسی تحریک کا وہاں نام ونشان ملتا ہے۔دوسری قسم کی استعماری طاقتوں کے تسلط میں رہنے والے مسلمانوں میں سیاسی تحریکات اٹھیں اور آہستہ آہستہ انہوں نے فروغ حاصل کیا لیکن ان تحریکات کا رجحان چونکہ سر تا سر منفی انداز کا تھا۔سارا زور استعماری طاقت کے خلاف نفرت پیدا کرنے پر صرف کیا گیا یہاں تک کہ جوش مخالفت میں قومی علمی اداروں کو نقصان تک پہنچایا گیا۔لوگوں سے سول ملازمتیں چھٹر وائی گئیں کو یا ان کے مالی وسائل کو تباہ کیا گیا۔تحریک سول نافرمانی اور تحریک ہجرت میں مسلم عوام سے یہی کچھ کروایا گیا جبکہ ہند و برادران وطن کا ہر قدم قوم کے وسائل بہبود کی طرف اٹھتا تھا۔اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اُن قومی نقائص اور عیوب کے دور کرنے کے سلسلہ میں کوئی تعمیری کارنامہ سرانجام نہ دیا جاسکا جو مسلم زوال کا اصل باعث تھے۔نہ قومی اخلاق کی تعمیر کے طاقتور ادارے قائم ہوئے ، نہ نئے علوم کے فروغ کے بصیرت افرو زمرکز اُبھرے، نہ اقتصادی حالات درست کرنے کی طرف کوئی مضبوط قدم اُٹھا، نہ قومی نظم و نسق اور اجتماعی تنظیم و تربیت کی جاندار کوششیں ہو سکیں اور نہ ایثارو قربانی کے تسلسل اور بے غرضی اور بے نفسی کے تعہد کے لئے قوم کو کوئی سبق ملا۔اس صورت حال کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ جاندار سیاسی تحریکات کے نتیجہ میں آزادی تو بے شک مل گئی ، غیر ملکی استعمار کا خاتمہ تو ہوا لیکن تشکیل حکومت کے اصولوں اور ووٹ کے استعمال کرنے کی قدرو قیمت سے عوام چونکہ نا واقف تھے اس لئے جمہوری ذرائع کے طفیل آزادی حاصل کرنے کے باوجود جمہوریت کی افادیت کو بھلا دیا گیا اور مسلم معاشرہ بدیہی حکومت کے تسلط سے نکل کر دیسی مناد پرستوں اور انارکی کے دلدا وہ خود غرضوں کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا۔جنہیں نہ حکومت کے اصولوں