تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 296 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 296

تاریخ افکا را سلامی ۲۹۶ خدا ان کے اعاد و پر قادر نہ ہوگا۔یہ ایک سکون کا دور ہو گا جس میں سب کچھ حالت سکون میں ہوگا۔فَلا يَقْدِرُ اللهُ فِي تِلْكَ الْحَالِ عَلَى إِحْيَاءِ مَيَةٍ وَلَا إِمَاتَةِ حَيَّ وَلَا عَلَى تَحْرِيكِ سَاكِنٍ وَ لا عَلى تَسْكِينِ مُتَحَرب وَلَا عَلَى إِحْدَاثِ شَيْءٍ يا اگلے جہان میں جنتی اور دوزخی دونوں اپنے اپنے افعال میں مجبور محض ہوں گے یعنی جفتی کھانے پینے اور عیش اڑانے پر مجبور ہوں گے اور دوزخی چیخنے چلانے اور واویلا کرنے پر مجبور ہوں گے۔وہاں ان کی مرضی نہیں چلے گی بلکہ یہ سب کچھ ان سے اللہ تعالی کرائے گا جبکہ جمیہ فرقہ اسی دنیا میں اس قسم کے جبر کا قائل ہے۔اس کے نزدیک انسان بلکہ ہر چیز مجبور محض اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔اسی نظریہ کی وجہ سے اس فرقہ کو جبر یہ بھی کہا جاتا ہے۔تقرب الہی کی قیمت نہ بھی ہو تب بھی اچھے کام کرنے والوں کو ثواب ملے گا اور ایسا کرنے والے کو مطیع اور فرمانبردار کہا جاسکتا ہے۔جبکہ اہل السنت والجماعت کے نزدیک خدا تعالیٰ کی پہچان اور اس پر ایمان لانے کے سلسلہ میں غورو فکر کرنے کی حد تک تو یہ نظریہ درست ہے۔اس قسم کے غورو فکر کا انسان کو ثواب ملے گا خواہد اس میں اُس کی نیت تقرب اور عبادت کی نہ ہو لیکن جب یہ معرفت حاصل ہو گئی تو پھر اس کے بعد صرف اُس کو ثواب ملے گا جس نے کوئی اچھا کام تقرب اور اطاعت الہی کی نیت وارادہ سے کیا ہو ہے اللہ تعالیٰ کی صفات عین ذات ہیں۔اس کی ذات سے الگ ان کا کوئی وجودا در تصور نہیں۔اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ اور علم ایک ہی چیز ہے۔اس نظریہ پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر یہ درست ہے تو پھر یہ کہنا بھی درست ہونا چاہیے کہ علم عالم ہے۔قدرت قادر ہے حالانکہ علم کو عالم کہنا اور قدرت کو قادر کہنا بے معنی او رابغو بات ہے۔یقینی خبر وہ ہے جسے کم از کم ہیں آدمی بیان کریں اور ان میں سے کم از کم ایک صادق الایمان اور جنتی ہو۔اگر سارے کے سارے غیر مومن ہوں خواہ وہ لاکھوں ہوں تو ان کی دی ہوئی خبر یقینی اور واجب القبول نہ ہوگی۔اسی طرح ابو البدیل کے نزدیک کسی خبر آحاد سے تب کوئی حکم شرعی ثابت ہوگا جبکہ اس کے راوی کم از کم چا رہوں۔الفرق بين الفرق صفحه ۸۵ الفرق بين الفرق صفحه ۸۸