تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 289 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 289

تاریخ افکا را سلامی ۲۸۹ فرقہ کا قائد شبيب بن يزيد الشَّيْبَانِی تھا۔شعیب نے بنو امیہ کی کئی فوجوں کو شکست فاش دی اور حجاج بن یوسف کی بھیجی ہوئی ہیں فوجی مہموں کو ناکام بنالیا۔ایک دفعہ شیب حجاج کے دارالحکومت کوفہ میں آگھا اور جامع مسجد کے علاقہ پر قبضہ کر لیا اور اپنی ماں غزالہ کو ممبر پر کھڑا کر کے اُس سے تقریر کروائی۔یہ خاتون بڑی فصیح البیان مقررہ تھی۔اس کے متعلق ہی ایک شاعر نے کچھ شعر کہے جو عربی نظم کی مشہور کتاب الحماسہ میں درج ہیں ان میں سے ایک شعر یہ ہے۔أَقَامَتْ غَزَالَةُ سُوقَ الصِّرَابِ لَاهَلِ الْعِرَاقَيْنِ حَوْلًا فَمِيْعًا شبیب نے اس رات کی صبح فجر کی نماز پڑھائی۔پہلی رکعت میں سورۃ بقرہ اور دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران عختم کی۔حجاج رات بھر اپنے محل میں دبکا بیٹھا رہا اور فوجوں کے جمع ہونے کا انتظام کرتا رہا۔صبح چار ہزار کی نفری لے کر شیب کے مقابلہ میں آیا۔سخت جنگ ہوئی اور شدیب انبار کی طرف نکل بھا گا اس کے تعاقب میں حجاج نے سُفیان ابن الابرہ کو تین ہزار کا لشکر دے کر بھیجا اُس نے شدیب کو ڈجیل ندی کے کنارے جالیا۔شبیب اس وقت پل عبور کر رہا تھا سفیان نے پل کی رسیاں کٹوا دیں اس وجہ سے شعیب گھوڑے سمیت ندی میں ڈوب مرا۔اس کے بعد اُس کے لشکر نے جو ندی کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا شیب کی والدہ غزالہ کو اپنا لیڈ رچن لیا اور اس کی بیعت کی۔دونوں فوجوں میں سخت جنگ ہوئی لیکن بالآخر ھیب کی والدہ اور اس کی بیوی میدان جنگ میں ہلاک ہو گئیں اور بھی بہت سے لوگ مارے گئے۔سفیان نے شیب کی نعش کو دریا سے نکلوا کر اس کا سر حجاج کے پاس بھجوا دیا۔تجاج نے حدیب کی فوجوں کے اکثر افراد کو معاف کر دیا لیکن ایک شخص کے قتل کا حکم دیا۔اس شخص نے کہا کہ قتل سے پہلے میرے یہ شعر سن لیں۔أَبْرَءُ إِلَى اللَّهِ مِنْ عَمْرٍو وَشِيْعَتِهِ وَمِنْ عَلِي وَمِنْ أَصْحَابِ صِفَيْنَ وَمِنْ مُعَاوِيَةَ الطَّاغِي وَشِيْعَتِهِ لا بَارَكَ اللهُ فِي الْقَوْمِ الْمَلَاعِيْنَ شبیبیه فرقہ پر یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ پر تو ان کا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے جنگِ جمل میں فوجوں کی قیادت کر کے قرآن کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے لیکن خود اس فرقہ نے شبیب کی والدہ کو اپنا لیڈ رچنا اور اس کی قیادت میں لڑے لے ↓ الفرق بين الفرق صفحه ۷۷