تاریخ افکار اسلامی — Page 286
تاریخ افکا را سلامی PAY واپس عبد الملک کے پاس بھجوا دیا۔اس وجہ سے نجدہ کے پیرو اس سے ناراض ہو گئے اور کہا انگ رَدَدْتْ جَارِيَةٌ لَّنَا عَلَى عَدُونَا - ایک اور جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مال غنیمت میں سے شمس نکالے بغیر کچھ خرچ کر لیا اور جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں سے مباشرت کی۔بعد میں یہ پریشان ہوئے کیونکہ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ گناہ کا مرتکب دائمی جہنمی ہوتا ہے۔اس پر ان کے لیڈ رنجیدہ نے کہا تم سے گناہ تو ضرور سر زد ہوا ہے لیکن یہ ایک اجتہادی غلطی تھی اس لئے مغفرت کی امید ہے۔اس کے بعد خوارج کے اس فرقہ نے یہ اصول تسلیم کر لیا کہ خدا اور رسول کی معرفت اور خارجی مسلمانوں کے خون کی حرمت یہ ضروری احکام ہیں ان کی خلاف ورزی گناہ کبیرہ ہے جو کسی صورت معاف نہیں ہوسکتا۔باقی امور میں اگر اجتہادی غلطی ہو جائے تو معذرت اور توبہ قبول ہو گی۔یہ فرقہ حد خمر کا قائل نہ تھا۔اس کا یہ بھی نظر یہ تھا کہ جس جرم کی مزاحد ہو اور یہ سزا نافذ ہوگئی ہو تو ایسے سزایافتہ مجرم کو دائگی عذاب نہیں ہو گا۔یہ فرقہ بھی کئی مزید فرقوں میں بٹ گیا اور اس کا یہی باہمی اختلاف اس کی تباہی کا موجب بنا لیے الصفرية خارجیوں کا یہ فرقہ زیاد بن الأصفر کا پیرو تھا۔اس فرقہ کے عقائد الازارقه سے ملتے جلتے تھے۔البتہ یہ اپنے مخالفین کے بچوں کے قتل کا قائل نہ تھا۔اس کا یہ نظریہ بھی تھا کہ جس جرم کی سزا بصورت حد نہیں اس کا ارتکاب کفر ہے اور جن جرائم کے مرتکب کو حد کی سزا ملی ہواسے کافر کہنے کی بجائے اس جرم کے نام کی مناسبت سے پکارا جائے گا مثلا زنا کرنے والے کو زانی ، چوری کرنے والے کو سارق کہا جائے گا اسے کا فریا مشرک کہنا درست نہیں ہوگا۔صفریہ کا ایک لیڈ رعمران بن حطان بڑا عابد ، زاہد اور مشہور شاعر تھا لیکن حضرت علی سے اس کو شدید بغض تھا۔اس نے حضرت علی کے قاتل عبد الرحمن بن معلیم کا مرثیہ لکھا جس کا ایک شعر یہ ہے يَا ضَرْبَةٌ مِنْ مُّنِيبٍ مَّا أَرَادَ بِهَا الَّا لِيَبْلُغَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ رِضْوَانًا ه الْعَجَارِدَة یہ فرقہ عبد الکریم بن گجر کا پیرو تھا۔یہ دس ضمنی فرقوں میں بٹ گیا۔عقائد میں یہ ازا رقہ سے متفق تھا الفرق بين الفرق صفحه ۶۰ ۳۔الفرق بين الفرق صفحه ۶۳