تاریخ افکار اسلامی — Page 283
تاریخ افکا را سلامی PAF خوارج اور ان کے بڑے ضمنی فرقے خوارج وہ لوگ ہیں جو جنگ جمل اور صفین کے بعد اس لئے حضرت علی کے خلاف ہو گئے کہ حضرت علی نے جنگ جمل میں انہیں غلام بنانے کی اجازت نہیں دی اور معاویہ کے مطالبہ پر حکم مقرر کرنے کی تجویز مان لی اس طرح ان کے خیال میں علی نے حق کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔یہ اختلاف اس قدر بڑھا کہ اس نے بغاوت کی شکل اختیار کرلی اور حضرت علی کو ان باغیوں کے خلاف متعد دلڑائیاں لڑنی پڑیں۔یہ لوگ دراصل اُن عناصر کا حصہ تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف شورش بر پا کر کے ان کو شہید کر دیا تھا۔ان لوگوں کو ڈر تھا کہ اگر مسلمانوں کے دونوں فریقوں کے درمیان ضلع ہو گئی تو پھر ان کی خیر نہیں۔انہیں خلیفہ وقت کو شہید کرنے کی ضرو ر سزا ملے گی۔اسی خلاف کی بنا پر یہ لوگ حضرت عثمان اور حضرت علی دونوں کو کافر کہتے تھے۔علامہ کبھی خوارج کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔إِنَّ الَّذِي يَجْمَعُ الخَوَارِجَ عَلَى اِفْتِرَاقِ مَنَاهِبِهِمَا إِكْفَارُ عَلِيٌّ وَعُثْمَانَ وَالْحَكَمَيْنِ وَأَصْحَابِ الجَمَلِ وَ كُلَّ مَنْ رَّضِيَ بِالتَّحْكِيمِ وَالإِ كَفَارُ بِارْتِكَابِ الذُّنُوبِ وَوُجُوبِ الْخُرُوج على الإمام الجابر یعنی خوارج با وجود با بھی اختلاف کے مندرجہ ذیل باتوں پر متفق ہیں۔علی عثمان اور دونوں حکم اور جنگ جمل میں شامل ہو کر علی کے خلاف لڑنے والے او روہ جو حکم مقرر کرنے کے فیصلہ کو درست مانتے ہیں یہ سب کافر ہیں۔اسی طرح جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ بھی کافر ہے۔ظالم حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا اور اس سے لڑنا بھی واجب ہے۔یہ تھا خوارج کا آغاز بعد ازاں آہستہ آہستہ یہ باغی گروہ کئی ضمنی فرقوں میں بٹ گیا جن میں سے چند بڑے بڑے فرقے مندرجہ ذیل تھے۔الْمُحَكِمَةُ الأولى، الاَزَارِقَة النَّجْدَاتِ الصُّفْرِيَّهُ، الْعَجَارِدَهُ، اَلا بَاضِيَّه - الفرق بين الفرق صفحه ۵۰ - خوارج اپنے آپ کو شراۃ کہتے تھے یعنی آية كريم إن اللهَ اشْتَرى مِنَ المؤمنينَ أَنْفُسَهُم وأموالهم بأن لهم الجنة (التوبه : 111 کے مطابق ہک جانے والے لوگ۔