تاریخ افکار اسلامی — Page 278
تاریخ افکا را سلامی IZA مُخْتَلِفَةٍ مَا دَامَتْ طَاعَتُهُ مَشْرَبَةٌ بِذُنُوبِهِ وَعَلَى قَدْرِ طَاعَاتِهِ وَذُنُوبِهِ يَكُونُ مَنَازِلُ قَوَالِيهِ فِي الْإِنْسَانِيَّةِ وَ الْبَهِيمِيَّةِ احمد بن خابطہ کا یہ نظریہ بھی تھا کہ خدا دو ہیں۔ایک ازلی اور قدیم جس کا نام اللہ ہے اور دوسرا مخلوق اور حادث جس کا نام مسیح ہے۔مسیح ان معنوں میں ابن اللہ ہے جو ولادت کے مفہوم سے مبرا ہیں آئی ھو ابنُ اللهِ عَلى مَعْنِّي دُونَ الوِلَادَةِ۔یہ دوسرا خدا ہی قیامت کے روز مخلوقات کا محاسبہ کرے گا۔اسی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔قرآن کریم کی آیت وَ جَاءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا میں رب سے مراد یہی مسیح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان که تَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ القَمَرَ ليلة البدر اس سے اسی مسیح کی رؤیت اور اس کا جلوہ مراد ہے۔علا مہ بغدادی احمد بن خالط کے اس قسم کے نظریات کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں قَالَ أَحْمَدُ بْنُ خَابِطٍ إِنَّ الْمَسِيحَ تَدَرَّعَ جَسَدًا وَ كَانَ قَبْلَ التَّدَرُّع عقلا و هُوَ اكْرَمُ الْخَلقِ عِندَ الله " احمد بن ایوب کا نظریہ تاریخ۔ایک اور شخص جس کا نام احمد بن ایوب بن با نوش تھا اس کا تناسخ کے بارہ میں یہ نظر یہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے تمام مخلوقات کو بیک وقت بالکل ایک جیسا پیدا کیا۔یہ سب اللہ تعالی کی ”دار النعیم، یعنی جنت میں بر مزے سے عیش و آرام سے رہتے تھے۔ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ اگر تم میں سے کوئی دوسروں سے بڑھنا چاہتا ہے اور مساوات کی ایک جیسی زندگی سے تنگ آگیا ہے تو وہ اس کے لئے ایک مقررہ امتحان دے سکتا ہے جس کی بنا پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کس کو بلند تر اور افضل تر درجہ دیا جائے۔احمد بن ایوب کہا کرتا تھا إِنَّ مَنْزِلَةَ الإِسْتِحْفَاقِ أَشْرَفَ مِنْ مُنزِلَةِ التفضيل - بہر حال خدا کی اس پیش کش کے موقع پر مخلوقات میں سے بعض نے کہا۔ہم اسی حال میں اچھے ہیں اور تیرے فضل کے شکر گزار ہیں اور بعض دوسرے امتحان دینے کے لئے تیار ہو گئے تا کہ وہ استحقاق کی بنا پر اور امتحان میں کامیابی حاصل کر کے دوسروں سے بڑھ جائیں ایسے سب افراد کو اللہ تعالی نے دارا الامتحان یعنی دنیا میں الفرق بين الفرق صفحه ۲۰۶ الفرق بين الفرق صفحه ۲۰۹۲۲۰۶