تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 263 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 263

تاریخ افکا را سلامی ۲۶۳ ابو حنیفہ العمان بن ابی عبد الله المَغْرَبِي الشَّيْعِی بھی بڑا قابل اور مجتہد اور مانا ہوا مصنف تھا۔اس کی کتابوں کو بھی بہر ہ اسماعیلی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ابو حنیفہ العمان پہلے مالکی المذہب تھا۔مصر میں جب فاطمی حکومت قائم ہوئی تو اُس نے اسماعیلی مذہب اختیار کر لیا اور ایک وقت میں آکر اسماعیلی مذہب کا دَاعِيُّ الدُّعاة منتخب ہوا۔یہ عبید اللہ المہدی، القائم ، المنصور تینوں فاطمی خلفاء کے زمانہ میں صاحب اثر ورسوخ رہا اور مختلف علاقوں کا قاضی بنا۔اسماعیلی فقہ، مناظرہ، تا دیل ، عقائد، تاریخ اور وعظ و تذکیر میں اس کی کئی کتابیں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ چالیس سے زیادہ کتابوں کا مصنف تھا۔اس کی كتاب دَعَالِمُ الإسلام اسماعیلی فقہ کا ایک عمدہ مجموعہ ہے اور نیبر داسماعیلی اسے اپنے فقہی مسلک کی اساس سمجھتے ہیں تے۔اس میں ابو حنیفہ الشی نے ارکان اسلام سات گنوائے ہیں۔عام معروف ارکان پانچ ہیں اوران میں ولایت ائمہ اہل بیت اور طہارت کا اضافہ کیا ہے۔بہر حال ابو حنیفہ العمان الشیعی کی کتب ظاہر احکام پر مبنی ہیں باطن اور بھر سے متعلق کتب میں ان کا شمار نہیں ہوتا اسی وجہ سے جو اسماعیلی فرقے یر اور باطنی علوم میں غلو ر کھتے ہیں۔جیسے النزاری یا الدرزی و ہ ابو حنیفہ العمان کی کتابوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔اسماعیلی مصصین میں سے ایک اہم مصنف جعفر بن منصور الیمنی ہے اسے بَابُ ابْوَابُ المُعز کا لقب دیا گیا جو قاضی القضاۃ کے مرتبہ سے بلند تھا۔زیادہ تر اسماعیلی اسرار باطنی نظریات اور تاویلات “ “ اسماعیلیہ سے متعلق کتب لکھی ہیں مثلا" تَأْوِيلُ الزَّكَاةَ "نسر ائر النَّطَقَاء الشواهد والبنيان “۔- " تَارِيحُ الَا ئِمَةِ الْمَسْتُورِينَ اور كتاب الكشف “ اس نے آیات قرآنی کی جو تا دیل کی ہے اس کی ایک مثال یہ ہے سورۃ التین میں تین سے مراد حسن ہیں اور زیتون سے حسین طور سینین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور هذا البلد الامین سے علی ہیں۔آخر الذکر کتاب الکشف کے (بقیه حاشیه) معرفة الحقيقة معرفة المبدع ومن اهم هذا الموازين ما وقفه على النطقاء والأسس والائمة والحجج والدعاة الى غير ذالك۔۔۔۔التي تفيد الباحث ( في تاريخ التطور العقلي للمذهب الاسماعیلی صفحه ۴۷۳) لا يعرف عند الاسماعيلية بأبي حنفية الشيعة وسيدنا الاوحد وسيدنا القاضي النعمان ويعد من أهم دعائم الدعوة الاسماعيلية قبل ان الخليفة المعز هو الذي حث النعمان على تأليفه۔(نفس المصدر ۴۷۵ - تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۷۴)