تاریخ افکار اسلامی — Page 235
تاریخ افکا را سلامی ۲۳۵ -٩ الْمُوَفِّضَه اس فرقہ کا عقیدہ تھا کہ یہ پیر عالم انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میر د ہے اس لئے و ومدبر اول اور خالق کائنات ہیں۔اس کے بعد انہوں نے یہ فریضہ حضرت علی کے سپر د کر دیا اس لئے وہ مدیر ثانی ہیں۔اس طرح کو یا یہ دونوں کا ئنات کی تخلیق اور تدبیر میں شریک ہیں۔-١٠ الدِّمِّيه یہ فرقہ اس بات کا قائل ہے کہ علی خدا ہے۔اُس نے محمد کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا کہ وہ علی کے اقتدار کی منادی کریں لیکن انہوں نے علی کے اقتدار کی منادی کرنے کی بجائے اپنی عظمت کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔اسی لئے یہ فرقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ہے اور کہتا ہے إِنَّهُ ادَّعَى الْأَمْرَ لَنَفْسِهِ الشَّرِیعہ یہ فرقہ شریعی نامی ایک زندیق کا پیرو تھا۔کے اس فرقے کا نظریہ تھا کہ اللہ تعالیٰ I پنجتن پاک یعنی پانچ ائمہ میں حلول کئے ہوئے ہے اس لئے یہ پانچوں کے پانچوں اللہ ہیں۔کے روافض میں سے مندرجہ ذیل فرقے کسی نہ کسی رنگ میں حلول ھے اور ائمہ کے الہ ہونے کے قائل ہیں۔السبيه، البيانيه، الجناحيه الخطابيه الشريعیہ۔یہ سب فرقے اگر چہ نابود ہو چکے ہیں تا ہم ان کے نظریات فاسدہ کسی نہ کسی صورت میں موجودہ فرقوں میں پائے جاتے ہیں۔مثلاً آغا خانی حلول کے قائل ہیں۔امام ناطق، تاریخ اور اباحت کے نظریہ کو بھی مانتے ہیں اور یہ عقید بھی رکھتے ہیں کہ شریعت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔اور باطن کو صرف امام الزمان اور اس کے داعی جانتے ہیں۔الفرق بين الفرق صفحه ۱۹ الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۱ الزنديقية هم الذين افضوا تعاليم الاديان الالهية بحجة تحرير الفكر - فرق الشيعة صفحه ٣٦ حاشيه ) فرق بين الفرق صفحه ۱۹۳ 2 الف - قال فخر الدین رازی اول من اظهرَ مَقَالَةَ الحلول في الاسلام الروافض فانهم ادعوا الحلول في حق الائمة - اعتقادات فرق المسلمين والمشركين صفحه ۷۳) ب ان الفرس قد بدء وا القداسة الى البيت النبوى باعتبارها اساسا مَوَازِيَا لأَسَبِهِمُ السَّيَاسِيَّةِ وَالبَيِّنِيَّةِ السَّابِقَةِ مِنْ تَأَلَيْهِمُ الْمُلُوك وقولهم بِالنُّورِ الَّذِي يَنتَقِلُ مِنْ مَلِكِ إلى اخر۔(الفصل لا بن حزم جلد ۳ صفحه ۱۱۵)